Al-Risala · October 1983 · page 16

Burns never return

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۶

روپیہ بھی دیں تو مجھے منظور نہیں ہے۔ مجھے تو اپنی وہ انگلیاں چاہئیں جن سے میں دوبارہ قلم پکڑلوں اور آپ کے دین کی خدمت کروں۔ انسان کی دی ہوئی کوئی بھی رقم میرے اس ہاتھ کی قیمت نہیں ہو سکتی جو آپ نے مجھے دیا تھا۔

ہمدرد نرسنگ ہوم میں ایک ڈاکٹر عبد القدوس صاحب تھے۔ وہ کافی تجربہ کار ڈاکٹر تھے۔ انہوں نے ایک روز انگریزی کی یہ مثل سنائی :

Burns never return

یعنی جلا ہوا کبھی نہیں لوٹتا۔ ان ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ میرے ہاتھ کی انگلیوں (خاص طور پر انگوٹھے اور شہادت کی انگلی) کے اعصاب جل چکے ہیں اور اب وہ دوبارہ بننے والے نہیں۔ اس لئے انہوں نے مشورہ دیا کہ اب بھی اگر میں قلم کا کام جاری رکھنا چاہتا ہوں تو بائیں ہاتھ سے لکھنے کی مشق شروع کردوں۔ ایک نوجوان ڈاکٹر اتنے مہربان تھے کہ وہ قلم اور کاغذ لے کر آتے اور مجھ سے بائیں ہاتھ سے لکھواتے۔ مگر اس وقت میرے جذبات کیا تھے اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ انہیں دنوں میں نے اپنی ڈائری میں اپنے کمزور ہاتھوں سے یہ الفاظ لکھے " انشاء اللہ مجھے پوری امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے معاملہ میں اس قسم کے تمام اندازوں کو غلط ثابت کرے گا۔ یہ عبارت میں اپنے گھر پر ، مارچ ۱۹۸۲ کو لکھ رہا ہوں جب کہ قلم ابھی انگلیوں کی پوری گرفت میں نہیں ہے۔ "

نرسنگ ہوم کے علاج سے تقریبا مایوس ہو کر میں ۵ مارچ ۱۹۸۴ کی شام کو اپنے گھر واپس آگیا۔ اب ڈریسنگ اور اینٹی بایوٹک دواؤں کا وہی سلسلہ گھر پر جاری تھا جو اس سے پہلے نرسنگ ہوم میں چل رہا تھا۔ ڈاکٹر اختر صدیقی از راہ عنایت خود میرے گھر پر آکر ڈریسنگ کرتے رہے۔ تاہم ڈریسنگ سے صرف یہ ہو رہا تھا کہ زخم کے مردہ خلیات نکل رہے تھے اور زخم زیادہ گہرائی کے ساتھ سامنے آتا جا رہا تھا۔ حتیٰ کہ ایک روز جب پٹی کھولی گئی اور صفائی کی گئی تو وتر (Tendon) صاف دکھائی دینے لگا۔ اس وقت میرے دل کی عجیب کیفیت ہوئی۔ گرم گرم آنسوؤں نے آنکھوں سے نکل کر بتایا کہ اس کیفیت کے اظہار کے لئے میرے پاس الفاظ موجود نہیں ہیں۔

گھر آنے کے بعد ۶ مارچ کی شام کو میرے کمرہ کے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ ریسیور اٹھایا تو میرے بڑے لڑکے ظفر الاسلام خاں لندن سے بول رہے تھے۔ انہوں نے میرا حال دریافت کیا تو میں نے کہا کہ میں بالکل ٹھیک ہوں کوئی پریشانی کی ضرورت نہیں۔ مگر یہ کہتے ہوئے بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ ظفر الاسلام خاں کو پریشانی سے بچانے کے لئے اگرچہ میں یہ الفاظ بول رہا تھا مگر

‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues

Printed page