Al-Risala · October 1983 · page 18

Burns never return

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۸

2 مارچ کو میں نے اپنی آنکھوں سے ہاتھ کے جلے ہوئے حصہ کو دیکھا وہ ہتھیلی سے لیکر کلائی تک تقریباً دو انچ چوڑا اور تین انچ لمبا سرخ گوشت کا لوتھڑا سا تھا۔ بظاہر یہ قابل قیاس نظر نہیں آتا کہ (خواب کے مطابق) مطابق)۴۰ دن میں وہ اپنی پہلی حالت کی طرح صاف ہو جائے گا۔ نرسنگ ہوم میں اگرچہ میری حالت بہتر نہیں ہوئی تھی۔ مگر وہاں سے میں اس لئے چلا آیا کہ گھر پر رہ کر کچھ کام کر سکوں گا۔ چنانچہ اسی حال میں الرسالہ کے کام میں لگ گیا۔ کبھی قلم کو شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کے درمیان پکڑ کر لکھتا۔ کبھی اپنی لڑکی فریدہ خانم سے املا کراتا۔ میری ڈائری میں ۲۶؍ مارچ ۱۹۸۲ کی تاریخ کے ساتھ حسب ذیل سطریں درج ہیں :

آج صبح کو مجھ پر ایک عجیب تجربہ گزرا۔ میں تذکیر القرآن میں سورہ یونس (آیات ۲۵۔ ۲۶؍) کی تشریح لکھ رہا تھا۔ الیکٹرک برن کی وجہ سے میری کلائی زخمی ہے۔ دائیں ہاتھ کی انگلیاں تقریباً ۵، ۶ میں سن ہیں۔ ہاتھ اتنا کمزور ہے کہ قلم پکڑنے میں نہیں آتا۔ تا ہم اسی حالت میں لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ عین اس وقت مجھ پر ایک لمحاتی تجربہ گزرا۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں خدا کو اپنے فرشتوں سے یہ کہتے ہوئے سن رہا ہوں کہ :

” ذرا میرے بندے کو دیکھو ..... “ بے اختیار دل بھر آیا اور آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔

میں اپنے گھر پر اسی حال میں تھا اور روزانہ دو وقت باقاعدہ ڈریسنگ ہوتی تھی، تا ہم سارا معاملہ بالکل غیر یقینی نظر آتا تھا۔ جب پٹی کھولی جاتی تو کافی لمبا چوڑا اور گہرا زخم میری آنکھوں کے سامنے ہوتا۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ کیسے بھرے گا۔ زخم کی صورت اتنی بھیانک تھی کہ اس کے کھلنے کے وقت میں بیوی بچوں کو اپنے پاس نہیں آنے دیتا تھا۔ یہاں تک کہ ۲ اپریل ۱۹۸۲ کو میں نے اپنا ایک وصیت نامہ لکھ دیا جو میری ڈائری کے صفحہ ۵۹ - ۶۱ پر درج ہے ۔ ہمدرد نرسنگ ہوم کے ڈاکٹروں نے گریٹنگ کا مشورہ دیا تھا۔ میرے لڑکے ثانی اثنین خان نے حادثہ کے بعد اس موضوع پر بہت سی کتابیں پڑھ ڈالیں۔ ثانی اثنین کا کہنا بھی یہی تھا کہ گرافٹنگ ضروری ہے۔ مگر مجھے آپریشن کے تصور سے دہشت تھی۔ اس لئے میں راضی نہ ہوا۔ میں اسی خیال میں رہا کہ دوا اور ڈریسنگ سے زخم مندمل ہو جائے ۔ مگر یہ امید پوری ہوتی نظر نہ آئی تھی۔ بالآخر ایسا ہوا کہ بعض ہمدرد اصرار کر کے مجھے ولنگڈن اسپتال لے گئے۔ وہاں ڈاکٹر آر پکھنڈانی نے خصوصی طور پر دیکھا اور شدت سے یہ مشورہ دیا آپ صفدر جنگ اسپتال میں داخل ہو جائیں

‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues

Printed page