You are too late.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۹
اور اپنے زخم کی گرافٹنگ کرائیں۔ بصورت دیگر، یہ زخم ایسا ہی پڑا رہے گا۔ اور اگر سالوں کے بعد قدرتی طور پر ٹھیک ہوا تو آپ کا ہاتھ مستقل طور پر ٹیڑھا ہو چکا ہوگا۔ انہوں نے صفدر جنگ اسپتال میں برن اور پلاسٹک سرجری کے انچارج ڈاکٹر جے ایل گپتا کے نام ایک ذاتی خط لکھ کر مجھے دیا اور کہا کہ آپ فوراً ان سے ملیں ۔
اگلے دن میں اس خط کو لے کر صفدر جنگ اسپتال پہنچا اور وہاں ڈاکٹر جے ایل گپتا سے ملا۔ وہ اس فن میں ہندوستان کے مشہور ایکسپرٹ ہیں۔ انہوں نے زخم کو کھول کر دیکھا تو فوراً پہلا جملہ یہ کہا کہ آپ نے بہت دیر کر دی :
You are too late.
انہوں نے کہا کہ آپ کو حادثہ کے بعد فوراً ہمارے یہاں آنا چاہیے تھا۔ تا ہم انہوں نے پوری ہمدردی کی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی پوری کوشش کریں گے۔ آپ ہمارے اسپتال میں داخلہ لے لیں۔ انہوں نے اسپتال کا ایک خصوصی کمرہ میرے لئے کھلوا دیا اور میں ۱۵ اپریل ۱۹۸۲ کو یہاں آگیا۔ صفدر جنگ اسپتال میں زخم کی گرافٹنگ سے پہلے کچھ طبی ضابطے پورے کرنے ضروری تھے ۔ چنانچہ اس کے مطابق میرے پورے جسمانی نظام کا معائنہ ہوا۔ یہ کام کئی دنوں تک ہوتا رہا۔ مگر ڈاکٹر حیرت میں تھے کہ اتنے بڑے حادثہ کے باوجود میرے جسم کی ہر چیز نارمل تھی۔ خون کی کئی طریقوں سے جانچ کی گئی۔ مگر سب رپورٹیں نارمل آئیں ۔ شکر اور البومن کے بارہ میں رپورٹ بالکل اطمینان بخش تھی۔ کئی ایکسرے لئے گئے مگر سب نارمل نکلے۔ مثال کے طور پر جنرل ولیمس میسانک پالیسی کلینک کی ریڈیو لاجکل رپورٹ (۳ اپریل ۱۹۸۲) میں میرے ایکسرے کے بارہ میں یہ الفاظ درج تھے :
Cardiac size is normal. Both hila are normal. No paranchy- matous lesion of lungs present. Costotphrenic angles are clear. کئی "ماہرین" نے میرے بارہ میں یہ بات بھی کہی تھی کہ بجلی کا شاک پورے جسمانی نظام کو متاثر کر دیتا ہے۔ اس لئے آپ اچھے ہونے کے بعد بھی کئی سال تک اپنا کام صحیح طور پر کرنے کے قابل نہ رہیں گے ۔ مگر خدا کے فضل سے مجھے اس قسم کا کوئی تجربہ نہیں ہوا اور خدا نے صرف "چالیس دن" میں میرا تمام معاملہ درست کر دیا۔ اسپتال میں اور اسپتال کے باہر ڈاکٹروں کی سخت ہدایت تھی کہ میں اپنا دایاں ہاتھ اتنا اٹھائے رکھوں کہ وہ سرکے برابر یا اس سے اوپر رہے۔ میں نے اس ہدایت کی تھوڑے دنوں پابندی کی۔ اور پھر اس کو چھوڑ دیا۔ خدا کے فضل سے پھر بھی میرے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues