Al-Risala · October 1983 · page 20

You are too late.

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۰

ہاتھ میں کوئی خرابی نہیں آئی۔ صفدرجنگ اسپتال میں مجھے کافی سکون تھا۔ بس یہی ایک چیز دہشت ناک تھی کہ دائیں ہاتھ کو رات دن سرکے برابر اٹھائے رکھنا پڑتا تھا۔ ڈاکٹر اگر کبھی دیکھ لیتے کہ میرا ہاتھ نیچے ہے تو فوراً کہتے " اس طرح آپ کا ہاتھ ہمیشہ کے لئے خراب ہو جائے گا۔ " صفدر جنگ اسپتال میں آتے ہی یہاں کے ڈاکٹروں نے پہلا کام یہ کیا کہ اینٹی بائیوٹک دوائیں سب کی سب بند کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں اینٹی بائیوٹک دواؤں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی تو صرف ڈریسنگ کرنی ہے اور اس کے بعد اسکن گریٹنگ ۔ چنانچہ چند دن تک ڈریسنگ ہوتی رہی ۔ یہاں تک کہ جب ان کے خیال کے مطابق زخم تیار ہو گیا تو ۱۰ اپریل ۱۹۸۲ کو مجھے آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا۔

مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ میرے کپڑے اتار کر دوسرے کپڑے پہنائے گئے اور آپریشن ٹیبل پر لٹا کر میرے منھ پر ایک آلہ رکھ دیا گیا۔ اس کے بعد مجھے جس واقعہ کی خبر ہے وہ یہ کہ میں نے اپنے آپ کو دوبارہ اپنے کمرہ میں پایا۔ "میرا آپریشن کب ہوگا ، " میں نے پوچھا " وہ تو ہو بھی گیا ،" جواب دینے والے نے جواب دیا۔ آپریشن تھیٹر میں میرا زخم کھرچ کر صاف کیا گیا۔ میرے دوسرے ہاتھ کے بازو سے تقریباً پانچ انچ لمبا اور تین انچ چوڑا چمڑا (پتلا کاغذ جیسا کاٹ کر نکالا گیا۔ اس کو میرے زخم پر رکھ کر سلا گیا۔ اس کے بعد دونوں جگہ پٹی کی گئی۔ مگر مجھے کسی چیز کی کچھ خبر نہیں ہوئی۔ میں نے اس پورے واقعہ کو اس وقت جانا جب کہ وہ انجام پا چکا تھا۔ یہ سب کمال تھا جدید سرجری کی اس دریافت کا جس کو عملِ تخدیر (Anaesthesia) کہا جاتا ہے ۔

گریٹنگ کے بعد مجھے کچھ دن اسپتال میں رہنا پڑا۔ یہاں تک کہ ۲۶ اپریل کو میری پٹی کھول دی گئی اور مجھے اجازت دیدی گئی کہ میں گھر جا سکتا ہوں۔ اسی گریٹنگ میں خدا نے میرے حادثہ کا علاج رکھا تھا۔ اگر چہ ڈاکٹر گپتا کا کہنا یہ تھا کہ آپ کو ٹھیک ہونے میں ابھی تین سال لگیں گے ۔ نیز انہوں نے کئی ورزشیں بتائیں اور کہا کہ اگر آپ نے یہ ورزشیں نہ کیں تو پھر کبھی آپ کا ہاتھ ٹھیک نہ ہو سکے گا۔ مگر میں نے کوئی ورزش نہیں کی اور خدا کے فضل سے صرف چند مہینہ میں میرا ہاتھ ہر اعتبار سے بالکل ٹھیک ہو چکا تھا۔ شانہ کے فریکچر کے اعتبار سے بھی اور ہاتھ کے الیکٹرک برن کے لحاظ سے بھی ۔ اب میں خدا کے فضل سے اپنے تمام کام معمول کے مطابق کر لیتا ہوں ۔ ہاتھ پر صرف ایک انچ لمبا اور آدھ انچ چوڑا گریٹنگ کا نشان ہے ۔ اب اپنا ہاتھ مجھے تقریباً ویسا ہی دکھائی دیتا ہے جیسا کہ میں نے ۱۰ مارچ ۱۹۸۲ کو خواب میں دیکھا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues

Printed page