حیدر آباد کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۸
جاتے ہیں۔ آپ شام کی ایک خبر کو اگلی صبح تک یہاں کے مسلمانوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ جب کہ ہنستان کے دوسرے شہروں میں یہ چیز مقابلے بہت کم پائی جاتی ہے۔ جدید صحافتی معیار کے اعتبار سے تو مسلمان ساری دنیا میں بے حد پیچھے ہیں۔ مگر صحافت بطور عمومی اطلاع نامہ کے بھی اب تک ان کے یہاں بہت کم استعمال ہو سکی ہے۔
نظام کی حکومت کے زمانہ میں جب کسی کو مستقل جاگیر دی جاتی تو اس پر لکھا جاتا تھا تا قیام شمس و قمر ، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حیدر آباد کے سابق مسلم حکمرانوں کی نفسیات کیا تھی۔ انگریزوں کی ہندوستان میں آمد کے زمانہ میں حیدر آباد کے مسلم نواب نے جو کردار ادا کیا وہ بھی اکثر مورخین کے نزدیک قابل تنقید رہا ہے۔ تا ہم یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان کی ریاستوں میں حیدر آباد جس طرح سب سے بڑی ریاست تھی اسی طرح اس نے تمام ریاستوں میں سب سے زیادہ کام بھی کئے ہیں۔
نواب کے زمانہ میں ریاست کے فنڈ سے ہندو اور مسلم رعایا کو یکساں طور پر امداد دی جاتی رہی ہے۔ اسی طرح اس دور میں مختلف قسم کے اسلامی کام بھی بہت بڑے پیمانے پر انجام پائے۔ مثلاً شعبہ امور مذہبی کا قیام ، جس کے تحت افراد اور اداروں کو مستقل امداد دی جاتی تھی۔ جامعہ عثمانیہ کے نام سے اردو یونیورسٹی کا قیام ، دار الترجمہ جس کے تحت بہت بڑے پیمانے پر دو دوسری زبانوں کی علمی کتابیں اردو زبان میں منتقل کی گئیں۔ دار المعارف جس نے کثیر تعداد میں قیمتی عربی کتابوں کو تلاش کر کے شائع کیا۔ وغیرہ وغیرہ ۔ حیدر آباد کی ان اسلامی خدمات کا اعتراف لوگوں نے دل کھول کر کیا ہے۔ مجھے بھی اس کی اہمیت سے انکار نہیں ۔ تا ہم ایک سوال اب بھی جواب طلب ہے۔ وہ یہ کہ اتنی بڑی بڑی کوششیں مستقبل کے اعتبار سے بے نتیجہ کیوں ہو گئیں۔
اس سوال کا جواب صرف ایک ہے۔ یہ سب کام حقیقتاً قومی کام تھے نہ کہ اسلامی کام ۔ اس میں شک نہیں کہ یہ تمام کام اسلام کے نام پر انجام دئے گئے۔ مگر اس سے اصل حقیقت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کوئی مسلم قوم جب بھی کوئی کام کرے گی وہ اسلام ہی کے نام پر کرے گی۔ خواہ وہ کام شخصی اور قومی محرکات کے تحت کیوں نہ وجود میں آیا ہو۔ قومی محرک کے تحت کیا ہوا کام خواہ وہ کتنے ہی بڑے پیمانہ پر انجام پائے کبھی نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔ مسلمان اگر قومی محرک کے تحت کام کریں تو انہیں یقینی طور پر صرف ایک ہی
‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues