Al-Risala · October 1983 · page 39

حیدر آباد کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۹

انجام کا انتظار کرنا چاہیے اور وہ یہ کہ ان کا کام حَبِطَتْ اعمالھم کا مصداق بن کر رہ جائے۔ انہیں ان کی قربانیوں کا کوئی نتیجہ نہ ملے۔

اس کے برعکس حقیقی اسلامی محرک کے تحت کیا ہوا کام ہمیشہ نتیجہ خیز ہوتا ہے۔ اسلامی محرک عین اندرونی تقاضے کے تحت آدمی کو نتیجہ خیز رخ کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ مثلاً، قدیم حیدر آباد کی اسلامی سرگرمیاں اگر صحیح اسلامی محرک کے تحت ہوتیں تو لازمی طور پر اس کا یہ نتیجہ نکلتا کہ اس کے عمل کا رخ دعوت الی اللہ اور فکر آخرت کی طرف ہوتا۔ اور یہ دونوں چیزیں وہ ہیں جن کا نتیجہ خیز ہونا بالکل یقینی ہے۔ دعوت الی اللہ کا کام اسلام کی توسیع کرکے اس کو مستقل طاقت عطا کرتا ہے۔ اسی طرح اگر حیدر آباد میں آخرت پسندی کا ذہن ہوتا تو "قاسم رضوی" جیسی تحریکیں کبھی نہ بنتیں جن کا نقصان اتنا زیادہ ہے کہ ان کا شمار کرنا ممکن نہیں۔

۱۹۶۰ء میں جب میں حیدر آباد گیا تھا تو وہاں ایک اندوہناک منظر یہ نظر آیا کہ رکشا کھینچنے والے بیشتر مسلمان تھے۔ جہاں تک یاد ہے اس زمانہ میں ۲۵ ہزار رکشا کھینچنے والے تھے جن میں تقریباً بیس ہزار مسلمان تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ریاست کے زمانہ میں مسلمان زیادہ تر ملازمت کرتے تھے ۔ جب ریاست ختم ہوئی تو اس کے بہت سے شعبے بھی ختم ہو گئے۔ چنانچہ بہت بڑی تعداد میں مسلمان بے روزگار ہو گئے۔ ان میں تعلیم بہت کم تھی، تجارت میں وہ تقریباً نہیں کے برابر تھے۔ اب ان کے لئے جو کام رہ گیا تھا وہ جسمانی محنت کا کام تھا جس میں رکشا چلانا بھی شامل تھا۔

مگر اب پندرہ سال بعد صورت حال بالکل بدل چکی ہے۔ اب حیدر آباد کے مسلمانوں میں تعلیم بہت بڑھ چکی ہے۔ تجارتوں میں بھی وہ کافی داخل ہو چکے ہیں۔ بہت سے خاندانوں کے افراد خلیجی ممالک میں ہیں۔ اس طرح انہوں نے اپنے معاشی نقصان کی تلافی کر لی ہے۔ تاہم یہاں بھی میرے جیسے آدمی کے لئے بہت زیادہ خوشی کا موقع نہیں۔ کیونکہ دوسرے مقامات کی طرح ، یہاں کے مسلمانوں کی آمدنی کا بڑا حصہ صرف دو مدوں میں ضائع ہو رہا ہے نمائشِی اخراجات اور آپس کے جھگڑے ۔

حیدر آباد میں میرا قیام چار دن رہا۔ ان چار دنوں میں عام ملاقاتوں اور گفتگو کے علاوہ جو باضابطہ پروگرام ہوئے، ان کی تفصیل یہاں درج کی جاتی ہے :

‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues

Printed page