حیدر آباد میں پروگرام کی تفصیل
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۴۱
میری تقریروں اور ملاقاتوں کی رپورٹیں مقامی اخبارات میں روزانہ شائع ہوتی رہیں۔ ایک بڑے اخبار کا نمائندہ مستقل طور پر میرے ساتھ تھا تا کہ میری تمام مصروفیات کو کور کر سکے۔ لوگوں نے کثرت سے ہمارے مشن کو سنا اور پڑھا۔ چنانچہ چار دن تک یہاں کے تعلیم یافتہ طبقہ میں عام طور پر اس کا چرچا ہوتا رہا۔
دہلی سے میں اپنے ساتھ کتابوں کا ایک بنڈل (۲۵ کلو) لے گیا تھا۔ یہ کتابیں پہلے ہی دن ختم ہو گئیں۔ اس کے بعد ٹیلی فون کرکے دہلی سے فوری طور پر مزید دگنا تعداد میں کتابیں منگائی گئیں، اس کی صورت یہ ہوئی کہ رات کو دہلی میں الرسالہ کے دفتر کو ٹیلی فون کیا گیا۔ انہوں نے راتوں رات پیک کر کے صبح سویرے کے ہوائی جہاز سے کتابیں روانہ کیں اور ٹیلی فون کے ذریعہ اس کا رسید نمبر ہم کو بتا دیا۔ اس نمبر پر حیدر آباد میں اگلے دن صبح کو کتابیں حاصل کر لی گئیں۔ چنانچہ دوسرے دن اجتماع میں اسٹال پر تمام کتابیں دوبارہ موجود تھیں۔
اب بھی وہی صورت ہوئی جو پچھلے دن پیش آئی تھی، یعنی تمام کتابیں، " ہاٹ کیک " کی طرح بک گئیں۔ اب رات کے وقت دوبارہ ٹیلی فون کیا گیا اور دوبارہ مذکورہ طریقہ پر دھلی کے دفتر سے کتابیں روانہ کی گئیں۔ اور اگلی صبح کو اسی طرح حیدر آباد کے ہوائی اڈہ پر وصول کر لی گئیں ۔ مگر اس بار بھی تمام کتابیں ایک ہی دن میں فروخت ہو گئیں۔ چونکہ لوگوں کا اشتیاق برابر جاری تھا اس لئے اب یہ کیا گیا کہ مقامی طور پر حیدر آباد میں جن لوگوں کے پاس الرسالہ کے پرانے پرچے یا مکتبہ الرسالہ کی چھپی ہوئی کتابوں کے ذخیرے تھے ان کو ان کے گھروں پر جا کر حاصل کیا گیا ۔ ان میں ایسے بھی تھے جن کے اوراق پھٹے ہوئے تھے۔ ٹائٹل پر لوگوں نے اپنا نام وغیرہ لکھ رکھا تھا۔ مگر ان کا بھی یہ حال ہوا کہ جب ان کو اجتماع کے موقع پر اسٹال پر رکھا گیا تو لوگوں نے پوری قیمت پر انہیں خرید لیا۔ مجموعی طور پر ایک سو کلو وزن سے زیادہ کی کتابیں فروخت ہو ئیں۔
۱۵ نومبر کی شام کو نواب اکبر علی خاں (سابق گورنر یوپی) نے اپنے یہاں کچھ اعلی تعلیم یافتہ اصحاب کو جمع کیا۔ اس موقع پر ان لوگوں سے تقریباً ایک گھنٹہ کی ملاقات رہی جناب اکبر علی خاں نے مولانا محمد علی کی زندگی اور کام سے متعلق اپنی ایک کتاب مجھے ہدیہ کی ۔ یہ کتاب انہوں نے حال میں شائع کی ہے۔ اس مناسبت سے میں نے اپنی مختصر گفتگو میں بتایا کہ ہمارا مشن کیا ہے ، آپ اس کو یوں سمجھ سکتے ہیں کہ جہاں محمد علی نے اپنا سفر ختم کیا
‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues