Islam means realism
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۴۴
حال میں ایک سفر کے دوران میرا کچھ وقت یوگنڈا کے ہوائی اڈہ انٹے بی پر گزرا ۔ اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں ۱۹۷۶ میں فلسطینیوں نے اسرائیل کا ایک ہوائی جہاز ہائی جیک کرکے اتارا تھا۔ چند دن تک یہ واقعہ اخبارات کے صفحہ اول کی سرخیوں میں جگہ پا تا رہا۔ اور اس کے بعد فلسطینیوں کو اس کی قیمت دینی پڑی وہ آپ سب کو معلوم ہے ۔
اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جدید صحافت میں کس طرح ایسا ہورہا ہے کہ ایک چیز جو حقیقت کے اعتبار سے بالکل بے قیمت ہو وہ اخبار کے صفحہ میں بہت زیادہ با قیمت بنا کر دکھائی جانے لگے ۔
ہم صحافت سے کیا چاہتے ہیں ، ایک لفظ میں یہ کہ صحافت حقیقی قیمت (Real Value) کو اہمیت دے نہ کہ اخباری قیمت (News Value) کو۔ ریل ویلو کو اہمیت دینے سے آدمی کے اندر حقیقت پسندی آتی ہے اور حقیقت پسندی تمام انسانی خوبیوں کی اصل ہے۔ اس کے بر عکس نیوز ویلو کو اہمیت دینے سے غیر سنجیدگی (Insincerity) پیدا ہوتی ہے۔ اور غیر سنجیدگی بلا شبہ تمام انسانی خرابیوں کی جڑ ہے ۔
اسلام جو سنجیدہ اور تعمیری سماج بنانا چاہتا ہے، اس میں صحافت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ مگر موجودہ حالت میں صحافت اس مقصد کے بالکل بر عکس سمت میں جارہی ہے۔ اسلام حقیقی چیزوں کو اہمیت دینے والا مزاج بنانا چاہتا ہے اور موجودہ زمانہ میں صحافت کا کمال یہ بن گیا ہے کہ وہ غیر حقیقی چیزوں کو سب سے زیادہ نمایاں کرے ۔
ایک سفر میں میری ملاقات کناڈا کے ایک صاحب سے ہوئی۔ انہوں نے پوچھا کہ اسلام کا مطلب کیا ہے ۔ میں نے جواب دیا :
Islam means realism
اسلام نام ہے حقیقت پسندی کا۔ واقعہ یہ ہے کہ اسلام زندگی کی سائنس ہے اور اس سائنس کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ دنیا میں حقیقت پسند بن کر رہو ۔ ہر معاملہ میں وہ رویہ اختیار کرو جو حقیقت واقعہ کے مطابق ہو۔ حقیقت پسندانہ رویہ زندگی کی تمام کامیابیوں کا راز ہے۔ اور حقیقت پسندی سے انحراف تمام ناکامیوں کا واحد سب سے بڑا سبب ہے۔
موجودہ زمانہ میں دو خاص بڑے بڑے شعبے ہیں ۔ جو زندگی کی صورت گری کرتے ہیں ۔ یہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues