علم کافی یں
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۷
کر سکتی ہے۔ غور کیجیے کہ اس قسم کے کیڑوں کی ہزاروں صورتیں اگر شیر اور بھیڑئے کی طرح بڑی ہو کر چلنا پھرنا شروع کر دیں تو زمین پر انسان کے لئے زندگی گزارنا کس قدر مشکل ہو جائے۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کیڑے مکوڑے اس قسم کے پھیپھڑے نہیں رکھتے جیسے کہ آدمی رکھتا ہے۔ وہ خاص طرح کی ہوائی نالیوں (Air Tubes) کے ذریعہ سانس لیتے ہیں۔ جب کیڑے بڑے ہوتے ہیں تو ان کی یہ سانس کی نالیاں ان کے بڑھتے ہوئے جسم کی نسبت سے نہیں بڑھتیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی کیڑا، زیادہ بڑا نہیں ہونے پاتا۔ بڑھنے پر یہ حد بندی ان کو شیر اور بھیڑیئے کی جسامت حاصل کرنے سے روک کے رہتی ہے۔ اگر یہ قدرتی روک موجود نہ ہوتا تو زمین پر انسان کے لئے قیام کرنا نا ممکن ہو جاتا۔ اگر دل کے اندر ایمان کی معرفت موجود ہو تو یہ واقعہ خدا کے وجود پر آدمی کے یقین کو بڑھاتا ہے، وہ اس کے لئے خدا کی گواہی بن جاتا ہے۔ چنانچہ ایک عیسائی عالم کریسی ماریسن (Cressy Morrison) اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ عالم فطرت کا یہ نظم و نسق (Economy) ہم کو یہ ماننے پر مجبور کرتا ہے کہ اس کائنات کے پیچھے کوئی اعلیٰ ذہن کام کر رہا ہے، کیوں کہ :
Only infinite wisdom could have foreseen and prepared with such astute husbandry. یعنی صرف لا محدود عقل اتنے زیرک انتظام کو پیشگی تصور میں لا سکتی تھی اور اس کا اہتمام کر سکتی تھی (ریڈرز ڈائجسٹ نومبر ۱۹۶۰ء)
مگر معرفت سے محروم ذہن کے لئے یہی واقعہ بالکل برعکس مفہوم کا حامل بن گیا ۔ جولین ہکسلے (J. Huxley) اس زمانے کا بہت پڑھا لکھا آدمی ہے، اس نے اپنے ایک مضمون میں ارتقاءء کے ذیل میں مذکورہ بالا واقعہ کا ذکر کیا ہے۔ نظریہ ارتقا کے مطابق انسان اور کیڑے مکوڑے کے فرق کو سمجھنے کے لئے کسی ارادہ الہی کو فرض کرنے کی ضرورت نہیں۔ کیڑے اور انسان دونوں ہی بعض سادہ اور ابتدائی جراثومہ حیات کی ترقی یافتہ شکلیں ہیں۔ انسان کو مخصوص اسباب سے زیادہ ترقی کرنے کا موقع ملا۔ اس لئے وہ ذہن و دماغ رکھنے والی ہستی بن گیا ۔ اور کیڑے مکوڑوں کو بعض مانع اسباب نے یہ مواقع فراہم نہیں کئے، اس لئے وہ آگے نہ بڑھ سکے۔ وہ لکھتا ہے :
"کیا چیز تھی جس نے کیڑوں کو ترقی کرنے سے روک دیا۔ اس کا جواب کیڑوں کے سانس لینے کے طریقے (Breathing Mechanism) میں چھپا ہوا ہے۔ زمینی کیڑوں نے سانس لینے کے لئے ہوائی ٹیوب کا طریقہ اپنایا ہے جس کو حیاتیاتی اصطلاح میں (Trachene) کہتے ہیں۔ اندر جا کر اس نالی کی نہایت چھوٹی چھوٹی شاخیں ہو جاتی ہیں جن کو صرف خورد بین کے ذریعہ دیکھا جا سکتا ہے۔ یہی
‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues