Al-Risala · November 1983 · page 18

علم کافی یں

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۸

نالیاں گیسوں کو جسم کے اندر نسیج (Tissues) تک لے جاتی ہیں اور واپس لاتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں انسان اور دیگر جانداروں میں دہرا طریقہ پایا جاتا ہے۔ یعنی گیسیں پھیپھڑے سے ہو کر خون کی نالیوں تک پہنچتی ہیں۔ گیسوں کے نفوذ و انتشار کا قانون کچھ ایسا ہے کہ نالیوں کے ذریعہ سانس لینا چھوٹے کیڑوں کے لئے تو بہت آسان رہتا ہے۔ مگر جسامت کے بڑھنے کے ساتھ وہ مشکل ہونے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ چوہیا کے بقدر جسامت حاصل کرنے سے پہلے ہی یہ نالی نا قابل استعمال ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی کیڑا کبھی دوسرے ریڑھ دار جانوروں کے لحاظ سے اوسط درجہ کی جسامت بھی حاصل نہ کر سکا ؎ اس کے بعد وہ لکھتا ہے کہ یہی سبب اس بات کا بھی ہے کہ کوئی کیڑا کبھی ذہین نہیں بنا۔ ایک خاص جسامت میں محدود ہونے کی وجہ سے کیڑوں کو بہت کم اعصابی ریشے در کار ہوتے ہیں جبکہ انسانی ذہانت حاصل کرنے کے لئے بہت کثیر مقدار میں اعصابی ریشوں کی موجودگی ضروری ہے۔ اس طرح کے پھیلے ہوئے ریشوں کا نظام ایک خاص درجہ کی جسامت ہی میں پایا جا سکتا ہے۔ اب چونکہ کیڑے اس درجہ کی جسامت تک نہیں پہنچتے اس لئے وہ اعلیٰ ذہانت بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ دیکھئے ۔ ایک ہی واقعہ کا علم ایک شخص کے لئے کائنات میں ایک ذہین تخلیقی ارادے کی موجودگی کا ثبوت بن گیا اور اسی واقعہ سے دوسرے شخص نے یہ پہلو نکال لیا کہ موجودات کی توجیہہ کے لئے کسی تخلیقی ارادے کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ اس کے بغیر ہم تمام موجودات کی توجیہہ کر سکتے ہیں۔ علم کی حد تک دونوں شخص یکساں ہیں۔ مگر معرفت کے فرق نے دونوں میں زمین آسمان کا فرق پیدا کر دیا۔ ۲ - انجیل کا ایک فقرہ ہے ؛

تم زمین کے نمک ہو۔ لیکن اگر نمک کا مزہ جاتا رہے تو وہ کس چیز سے نمکین کیا جائے گا۔ پھر وہ کسی کام کا نہیں سوا اس کے باہر پھینکا جائے اور آدمیوں کے پاؤں کے نیچے روند اجائے۔ “ متی ۵: ۱۳ اس فقرے میں دراصل بنی اسرائیل کے آخری نبی نے یہود کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ تم صاحب کتاب ہونے کی بنا پر اہل دنیا کے لئے روشنی کا ذریعہ تھے۔ تمہاری حیثیت ہادی اور رہنما کی تھی۔ مگر تم نے کتاب الہی کو چھوڑ کر اپنا مقام کھودیا اور اس طرح خود ہی اپنے کو اس کا مستحق بنالیا کہ دوسروں سے تمہیں ذلیل کیا جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues

Printed page