علم کافی یں
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۹
مگر اس قانون الہی کو نہ جانتے کی وجہ پر ایک امریکی ماہر کیمیا (Elmer W. Maurer) نے اس کی عجیب و غریب تاویل کی ہے۔ وہ ایک کیمیا داں ہے۔ اس لئے اس نے علم کیمیا کی روشنی میں اس کو دیکھا تو اس کا ذہن ایک اور ہی سمت میں چلا گیا۔ وہ لکھتا ہے کہ تحقیق کے بعد میں اصل راز کو پا گیا: "وہ یہ کہ رومی ارضِ مقدس کے رہنے والوں سے نمک بطور محصول وصول کرتے۔ اہل فلسطین کو نمک کی سب سے زیادہ یافت بحیرۂ مردار یا بحیرۂ نمک سے ہوتی۔ یہ محصول اتنے ظالمانہ تھے کہ لوگ نمک میں ریت کی آمیزش کرنے پر مجبور تھے۔ حکومت اس نمک کو پانی کے بڑے بڑے حوضوں میں ڈال دیتی۔ جب نمک پانی میں گھل جاتا تو نمکین پانی اوپر سے نکال لیا جاتا اور ملاوٹی مادہ ناقابل تحلیل ہونے کی وجہ سے تہ نشیں ہو کر حوض میں رہ جاتا۔ اس طرح نمک نے اپنا ذائقہ کھو دیا تھا۔ وہ اب نمک باقی نہیں رہا تھا، وہ اسی قابل تھا کہ پاوں کے نیچے روندا جائے۔ "
وہ مزید لکھتا ہے:
"یہی ایک طریقہ نہیں تھا جس سے نمک اپنا ذائقہ کھو دیتا۔ بحیرۂ مردار (Dead Sea) کی سطح کا پانی دیگر اجزاء کےساتھ ۳۱ فی صد سوڈیم کلورائڈ، ۱۳ فی صد کیلشیم کلورائڈ اور ۴۸ فیصد میگنیشیم کلورائڈ رکھتا ہے۔ کیلشیم اور میگنیشیم کلورائڈ ہوا سے پانی جذب کرنے کی خاصیت رکھتے ہیں اور اس بنا پر جب نمک کے ساتھ شامل ہوتے ہیں تو اسے تحلیل کر دیتے ہیں۔ اس طرح ایک ناخوشگوار آمیزہ تیار ہو جاتا ہے۔ رواج نہ تھا کہ لوگ اس قسم کے نمک کے بڑے بڑے ذخائر ان گھروں میں محفوظ کر لیتے جن کا فرش مٹی کا ہوتا۔ بعض اوقات زمین کے ساتھ نمک کی جو تہیں بیٹھ جاتیں، وہ نمی کی وجہ سے خراب ہو جاتیں۔ چونکہ یہ ذخیرہ نمک ملا ہو ا ہونے کی وجہ سے زرخیز زمینوں کے لئے مفسر ہوتا تھا اس لئے کوئی شخص بھی اسے کھیت میں پھینکنے کی اجازت نہ دیتا، اس بنا پر اسے صرف گلیوں ہی میں پھینکا جاتا جہاں چلنے والے لوگ اسے اپنے پاؤں کے نیچے روندتے۔ "
The Evidence of God in an Expanding Universe Edited by John Clover Monsma (N. Y. 1958) p. 205 انجیل کے فقرے کی یہ توجیہہ ظاہر ہے کہ لال بجھکڑ کی روایتی کہانیوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ وہ نہ تو بجائے خود صحیح ہے اور نہ وہ متعلقہ فقرے سے کسی طرح منطبق ہوتی۔ مگر ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص نے ایسی بچکانہ غلطی کا ارتکاب صرف اس لئے کیا کہ اس نے سائنس کا علم تو حاصل کیا تھا مگر دین کی حقیقتوں سے وہ نا آشنا تھا۔ وہ اس نمک سے واقف تھا جو علم کیمیا میں زیر بحث آتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues