علم کافی یں
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۰
اور لیبارٹری میں جس کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ ’’نمک‘‘ کی ایک اور قسم ہے جس سے دل و دماغ کو چاشنی حاصل ہوتی ہے۔ جس سے زندگی میں خدا پرستی کا ذائقہ پیدا ہوتا ہے ’’نمک‘‘ کا لفظ دیکھ کر اس کا ذہن کیمیائی نمک کی طرف چلا گیا اور اپنے معروف نمک کے مطابق اس نے اس کی ایک تشریح کر ڈالی اس کے باوجود اس کیمیا داں کو اپنے تصور پر اس قدر یقین ہے کہ اس کے بعد وہ لکھتا ہے: ’’ یہ صرف ایک نمونہ ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بائبل اپنی جزئی تفصیلات تک میں سائنسی طور پر بالکل صحیح ہے‘‘ (صفحہ ۳۰۵)
۳۔ ایک صاحب جو پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتے ہیں، انھوں نے ریسرچ میں اپنے مقالہ کے لئے اسلام کے معاشی نظریات (The Economic Doctrines of Islam) کا عنوان لیا۔ ان کا ذہن یہ تھا کہ مسلمانوں کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر قسم کی اقتصادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ اپنے مقالے کے ایک حصے کو پر کرنے کے لئے انہیں یہ معلوم کرنا تھا کہ اسلام نے پیدائش دولت کے کن وسائل کی طرف اپنے پیروؤں کو متوجہ کیا ہے۔ اس مقصد سے انھوں نے قرآن کا مطالعہ کیا تو ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب انھوں نے دیکھا کہ یہاں تو بالکل لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصاھا کا معاملہ ہے۔ پیدائش دولت کا کوئی ذریعہ ایسا نہیں تھا جس کی طرف انھیں کتاب الہیٰ میں ’’اشارہ‘‘ نہ مل گیا ہو۔
اس حیرت انگیز انکشاف کی بنیاد کیا تھی، اس کو ایک مثال سے سمجھیے۔ قرآن میں موسیٰ اور فرعون کی کش مکش کے جو واقعات ہیں، ان میں سے ایک واقعہ وہ ہے جب فرعون نے اپنے وزیر ہامان سے کہا: فاو قد لي يا هامان علی الطين فاجعل لي صرحا اے ہامان! مٹی کے گارے کو جلا اور میرے لئے لعلي اطلع الى الہ موسٰی (قصص) ایک بلند عمارت بناتا کہ میں اس پر چڑھ کر موسیٰ کے خدا کو دیکھوں۔
اس آیت کو پڑھتے ہی موصوف اچھل پڑے۔ انھوں نے کہا، یہ تو ترابیاتی صنعت (Ceramic Industries) کی تعلیم ہے۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ اس فقرے کا تر ابیاتی صنعتوں کے قائم کرنے یا نہ کرنے سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ تو صرف فرعون کے تمرد کو بتا رہا ہے جو اس نے خدا کے نبی کے سامنے ظاہر کیا۔
اسی طرح جہاں کہیں کوئی ایک لفظ مل گیا، خواہ وہ جس سیاق میں بھی آیا ہو، انھوں نے فوراً
‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues