Al-Risala · November 1983 · page 21

علم کافی یں

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۱

اس سے ایک معاشی مفہوم نکال لیا۔ وما من دابة فی الارض ولا طائر یطیر بجناحیہ (انعام) ان کے نزدیک مرغبانی اور پرند پروری کی تعلیم دینے والی آیت تھی، واوسٰی ربک الى النحل(نحل) (نحل) شہد کی مکھیاں پالنے اور شہد کی تجارت کرنے کے ہم معنیٰ تھا، ویلبسہم منھا حریر میں کرم پروری اور سلک انڈسٹری کی طرف اشارہ تھا، ویصنع الفلک (ہود) جہاز سازی کا کارخانہ۔ قائم کرنے کا پیغام تھا، وحلو ا اساور من فضة (دہر) میں زیور سازی کی صنعت کی ہمت افزائی کی گئی تھی ۔ اسی طرح محض سرسری فہرست بندی میں انہوں نے ... اسے بھی زائد ایسی مصنوعات کا پتہ لگایا تھا جن کی طرف قرآن میں " اشارے " کئے گئے ہیں۔ حتیٰ کہ اُس جوش میں وہ یہ بھی بھول گئے کہ قرآن سے جن صنعتی کاموں کی فہرست وہ بنا رہے ہیں، ان میں اصنام، تماثيل، خمار اور صوامع جیسی چیزیں بھی شامل ہیں ۔

مختلف قسم کی صنعتوں کو قائم کرنے اور ان کو فروغ دینے کے بارے میں اس قرآنی استدلال کے متعلق یہی کہا جا سکتا ہے کہ موصوف کو عربی الفاظ کے معانی کا علم تو تھا مگر قرآن کی حکمت سے وہ آشنا نہیں تھے ۔ اس لئے انہیں محسوس نہیں ہوا کہ جن آیات کے حوالے سے وہ اپنا استدلال کھڑا کر رہے ہیں ، ان آیات کا صنعت و تجارت کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ یہ استدلال صریح طور پر قرآن کی رُوح کو مجروح کر رہا ہے۔

آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ ایک مخصوص حلقہ میں اس کتاب کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے ایک پروفیسر نے اس کو عظیم تصنیف (Great Work) سے تعبیر کیا۔ اور کیمبرج یونیورسٹی کے انگریز پروفیسر (Mr Krenkow) نے لکھا :

The work is a diligent and scientific study. یعنی یہ تصنیف محنت اور علمی مطالعہ کا ایک نمونہ ہے۔

۴- مشہور حدیث جبریل کا ایک فقرہ ہے:

الاحسان ان تعبد اللہ کا نك تراه فإن لم تكن تراه فانه يراك ۔

کئی سال پہلے کی بات ہے کہ ایک شخص نے مجھ سے اس فقرہ کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں کے کہا، یہی ہی مفہوم بعض دوسری روایات میں ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے :

ان تخشى الله كانك تراہ تم الله سے اس طرح ڈرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو ، ( فتح الباری جلد اول)۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues

Printed page