علم کافی یں
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۲
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس میں کسی قسم کی رویت کا ذکر نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ خدا کی بندگی یہ سمجھ کر کی جائے کہ خدا جو علیم و بصیر ہے، وہ یقیناً ہم کو دیکھ رہا ہوگا۔ وہ اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں:
احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، کیوں کہ اگر تم اسے دیکھ نہیں رہے ہو تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔
”جو لوگ حدیث کا یہ مطلب بتاتے ہیں، انہوں نے خدا کو نہیں دیکھا، اگر وہ دیکھتے تو ایسا ترجمہ نہ کرتے“___ یہ میرا جواب تھا۔ یہ صحیح ہے کہ اس دنیا میں کوئی شخص خدا کا عینی مشاہدہ نہیں کر سکتا۔ اس قسم کا مشاہدہ صرف آخرت میں ممکن ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ بندہ جب خدا کی یاد اور اس سے خوف و محبت کے جذبات میں غرق ہوتا ہے تو اس پر شبہہ رویت کی سی ایک کیفیت طاری ہوتی ہے۔ اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔
ہمارے اور خدا کے درمیان محض ایک نظریاتی نسبت نہیں ہے بلکہ ایک گہرا فطری اور نفسیاتی ربط ہے۔ عام انسانوں میں یہ ربط چھپا رہتا ہے۔ مگر جو لوگ اپنے آپ کو خدا کے لئے وقف کر دیتے ہیں، ان کا یہ ربط اسی طرح ابھر آتا ہے جیسے دوسری فطری صلاحیتیں نکاس کا راستہ پانے کے بعد ظاہر ہو جاتی ہیں۔ اور ایسا نہ ہو تو دبی پڑی رہتی ہیں۔ بندہ جب اپنے آپ کو بالکل خدا کی طرف متوجہ کر دیتا ہے تو خدا بھی اس کے انتہائی قریب آ جاتا ہے۔ خالق اور مخلوق کے درمیان جو امکانی ربط ہے وہ بالفعل قائم ہو جاتا ہے۔ اس وقت خدا کا تصور آدمی کی فکر و نظر میں اس طرح سما جاتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اس کو خدا کی یاد دلانے والی بن جاتی ہے۔ اس پر ایسے لمحات گزرتے ہیں جب خدا کے سوا اور کوئی چیز اس کے سامنے نہیں ہوتی۔ وہ شوق واشتیاق کے شدید جذبات کے ساتھ خدا کی طرف لپکنے لگتا ہے اس کو ایسی کیفیت سے بھری ہوئی دعائیں نصیب ہوتی ہیں جیسے کہ وہ عین اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوا ہے اور اس سے گڑگڑا کر مانگ رہا ہے۔ اس کو ایسے سجدے نصیب ہوتے ہیں جب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس نے اپنا سر اپنے رب کے قدموں میں ڈال دیا ہے اور اس کے آگے زمین پر پڑا ہوا ہے، اس کو ایسے اعمال کی توفیق ملتی ہے گویا کہ وہ عین خدا کے حضور میں ہے اور اس کی خوشنودی کے لئے سرگرم ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب بندگی اپنے انتہائی عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ اس وقت بندہ جسمانی اعتبار سے خدا سے دور ہونے کے باوجود، اپنے احساس کے اعتبار سے خدا کے قریب ہو جاتا ہے، منہ دیکھنے کے باوجود وہ خدا کو دیکھنے لگتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues