Al-Risala · November 1983 · page 23

علم کافی یں

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۳

حقیقت یہ رہے کہ اس حدیث میں عبادت کے دو درجے بتائے گئے ہیں۔ پہلا اور اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ بندے کے قلب و روح پر خدا کا خیال اس طرح چھاجائے کہ اس پر حضوری کی کیفیت طاری ہونے لگے۔ اور دوسرا درجہ یہ ہے کہ وہ اپنے ذہن میں اس تصور کو جمائے کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے اور اسی تصور کے تحت خدا کی عبادت کرے۔ اسی لئے حدیث کے پہلے ٹکڑے میں "رویت" کی نسبت بندے کی طرف کی گئی ہے اور دوسرے ٹکڑے میں رویت کی نسبت خدا کی طرف۔ اس اعتبار سے فقرے کا صحیح ترجمہ وہ ہے جو شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے کیا ہے۔ انہوں نے اس حدیث میں عبادت کے دو "مراتب" مراد لئے ہیں۔ ایک "اعلیٰ" اور دوسرا اس سے "فروتر" مرتبہ۔ اعلیٰ یہ کہ بندہ ــــــــــــ در مشاہدہ معبود و حضور ذات اقدس وے مستغرق باشد"، اور اس سے فروتر مرتبہ "آگاہ بودن است از نظر الہی و علم وے تعالی بحال بندہ "، اس کے بعد انہوں نے اس کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا ہے:

احسان عبادت کردن است خدا تعالی را چنان کہ احسان کا مطلب خدا کی عبادت اس طرح کرنا ہے گویا گو یا می بینی اورا ، پس اگر نیستی تو بایں حال کہ گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے۔ پس اگر تمھاری یہ کیفیت نہ ہو می بینی اورا، عبادت کن اورا بایں صفت کہ حاضر کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، تو تم اس طرح عبادت کرو باشی ازیں کہ می بیند وے ترا دریں صورت کہ یہ خیال تمھارے ذہن میں موجود ہے کہ خدا تم کو شععة اللمعات، جلداول ، صفحه ۲ عبادت کرتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔

حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:

اشار فی الجواب الی حالتی : ارفعهم ان يغلب "احسان کیا ہے " کے سوال کا جواب جو نبی صلی اللہ علیہ عليه مشاهدة الحق بقلبه حتى كأنه يراه بعينه وسلم نے دیا ہے اس میں دو حالتوں کی طرف اشارہ فرمایا والثانية ان يستحضر ان الحق مطلع عليه ان میں بلند حالت یہ ہے کہ عابد کے دل پر مشاہدہ حق کا اس قدر غلبہ ہو گیا کہ وہ اپنی آنکھوں سے خدا کو دیکھ رہا ہے يرى كل ما يعمل فتح الباری جلداول ، صفحہ ۱۱۱ دوسری حالت یہ ہے کہ اس خیال کو اپنے ذہن میں مستحضر رکھے کہ خدا اس سے باخبر ہے اور وہ اس کے تمام اعمال کو دیکھ رہا ہے۔

اوپر جو چند مثالیں میں نے دیں ، ان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ علم کے ساتھ معرفت کس قدر ضروری ہے۔ اگر معرفت یا دوسرے لفظوں میں اشیاء کی پہچان نہ پیدا ہوئی ہو اور آدمی کو ان حقیقتوں سے آشنا ہونے کا موقع نہ ملا ہو تو محض علم کافی نہیں ہو سکتا۔ ظاہری معلومات رکھنے کے باوجود آدمی

‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues

Printed page