مینیجر الرساله
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۴
طرح طرح کی بے خبری میں مبتلا رہتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے، مگر نہیں دیکھتا، وہ پڑھتا ہے مگر نہیں سمجھتا۔ علم حقیقت میں وہی علم ہے جس کے ساتھ معرفت کی گہرائیاں شامل ہوں۔ جس نے غم کا لفظ ڈکشنری میں دیکھا ہو، مگر اس کو تڑپنا نصیب نہیں ہوا، وہ غم کا مطلب نہیں جانتا، ایسا شخص بس ترجمہ کرنے والی مشین ہے جو ایک زبان کا لفظ دوسری زبان میں دہرادیتی ہے، مگر نہیں جانتی کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ جس نے کتاب الہی میں لو انزلنا ھذا القرآن علی جبل لرأيته خاشعا متصدعا من خشية الله پڑھا، مگر قرآن نے خود اس کے اوپر نازل ہو کر اس کے ٹکڑے نہیں کئے، وہ نہیں جانتا کہ اس آیت میں کون سی حقیقت بتائی گئی ہے۔ جس نے اسلام کے معاشی قوانین پر عبور حاصل کر لیا، مگر اس پر ابھی ایسا معاشی واقعہ نہیں گزرا کہ وہ ایک صاحب حاجت کو اپنی جیب کے پیسے دے اور دوسری طرف اس کی ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں میں والذین یوتون ما تو و قلوبہم وجلۃ کی تفسیر جھلک رہی ہو، اس وقت تک وہ اسلام کی معاشیات سے بے خبر ہے۔ جس شخص نے نماز کے مسائل جان لئے مگر نماز سے اس کی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوئیں، نماز اس کے لئے خدا سے سرگوشی نہیں بنی، وہ ابھی نماز سے نا آشنا ہے۔ جس نے حدیث کی کتابیں ختم کر ڈالیں، مگر اس کے آنسوؤں نے کتاب کے اوراق نم نہیں کئے ، وہ حدیث کی حقیقت سے نا واقف ہے۔ جس کو دنیا نے اسلام کے مقرر کا خطاب دیا ہو، اس کی تقریر اس وقت تک اسلامی تقریر نہیں بنتی جب تک وہ خدا سے دعاؤں اور التجاؤں کے نتیجے میں نہ ملی ہو۔ جس کو لوگ اسلام کے مصنف کی حیثیت سے جانتے ہوں، اس کی تصنیف اس وقت تک اسلامی تصنیف نہیں ہے جب تک اس پر یہ حالت نہ گزری ہوکہ وہ بے قرار ہو کر سجدے میں سر رکھ دے اور کہے کہ خدایا! تو میرا قلم بن جا جس سے میں لکھوں، تو میرا دماغ بن جا جس سے میں سوچوں۔ جاننے والو! جانو، کیوں کہ تم ابھی نہیں جانتے، پڑھنے والو! پڑھو، کیوں کہ تم نے ابھی نہیں پڑھا۔ اعلان ماہنامہ الالرسالہ کے پچھلے شمارے برائے فروخت دفتر رسالہ میں موجود ہیں۔ شائقین طلب فرمائیں۔ مکمل فائل کی قیمت ۲۴ روپیہ فی سال (بغیر کمیشن) ہوگی۔ جلد کی قیمت علیحدہ چارج کی جائے گی۔ متفرق شماروں پر کمیشن ۲۵ فی صد۔
مینیجر الرساله
‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues