Al-Risala · November 1983 · page 34

Your freedom ends where my nose begins

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۴

ایک سفر

۱۹ دسمبر ۱۹۸۲ کی صبح کو میں ایئر انڈیا کے جہاز کے ذریعہ دہلی سے طرابلس کے لئے روانہ ہوا۔ پالَم ایئر پورٹ پر ہم لوگ پہنچے تو سفارت خانہ کے فرسٹ سکریٹری محتار محمد الامشتری، الوداع کہنے کے لئے پہلے سے وہاں موجود تھے۔ موصوف پورے معنوں میں ایک عرب نوجوان ہیں۔ تقریباً آدھ گھنٹہ تک ان سے دینی موضوعات پر گفت گو ہوئی۔ وہ ہندوستان آنے سے پہلے میری عربی کتابیں پڑھ چکے تھے، اس لئے گفتگو کا بڑا حصہ انہیں کتابوں سے متعلق رہا۔ ساتھیوں سے رخصت ہو کر اندر داخل ہوا تو کچھ ہندوستانی مسافر ملکی سیاست کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ ایک صاحب نے جوش کے ساتھ کہا: ”چرن سنگھ، جگجیون رام، مرار جی ڈیسائی، کوئی بھی سیاست نہیں جانتا سیاست اندرا گاندھی جانتی ہے، وہ تو کھا جائے گی پاکستان کو“ اسی قسم کی باتیں ناموں کی تبدیلی کے ساتھ آپ کو سرحد کی دوسری طرف بھی سننے کو ملیں گی۔ دونوں ملکوں میں دوسرے کی تخریب کا نام سیاست ہے۔ اپنی تعمیر کا نام سیاست ہے، اس کو دونوں میں سے کسی نے ابھی تک نہیں جانا۔

ہمارے جہاز کے بیشتر مسافر یورپ جا رہے تھے۔ ان کی اکثریت غالباً ان ہندوستانیوں پر مشتمل تھی جو یورپ میں مقیم ہیں اور ایشیائی کھیل دیکھنے کے لئے ہندوستان آئے تھے۔ ان کے چہرے بے فکری کی علامت بنے ہوئے تھے۔ وہ زور زور سے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ بار بار قہقہے لگاتے تھے۔ میرے دل نے کہا: انسان کی بے خبری بھی کس قدر عجیب ہے۔ لوگ ہنس رہے ہیں حالانکہ بہت جلد وہ روئیں گے۔ لوگ بول رہے ہیں حالانکہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب کہ ان کے الفاظ ختم ہو جائیں گے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی منزل کی کی طرف بڑھ رہے ہیں حالانکہ بالاخر خندق کے سوا کوئی چیز نہیں جو لوگوں کا انتظار کر رہی ہو۔ یہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے مگر یہی وہ حقیقت ہے جس کا نہ کوئی جاننے والا ہے اور نہ کوئی اس کو بتانے والا۔

دہلی سے اُڑان کے بعد جہاز تقریباً نو گھنٹے تک چلتا رہا، یہاں تک وہ ساڑھے سات ہزار کلو میٹر کا سفر طے کرکے روم (اٹلی) پہنچا۔ اس درمیان میں جہاز کا اناؤنسر بار بار اعلان کرتا رہا" اب ہم شام کے اوپر سے اُڑ رہے ہیں۔ اب ہم یونان پہنچیں گے۔ اب ہم

‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues

Printed page