Your freedom ends where my nose begins
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۴۴
قرآن کے بارہ میں تقریباً ایک گھنٹہ تقریر کی۔ اس کا موضوع یہ تھا کہ قرآن کو کس طرح پڑھنا چاہئے۔ مختلف مثالیں دے کر میں نے واضح کیا کہ قرآن کا صرف پڑھنا کافی نہیں ہے۔ بلکہ ضروری ہے کہ اس کو صحیح ذہن کے ساتھ پڑھا جائے ۔ اکثر لوگ قرآن کو اپنے خیالات کی تصدیق کے لئے پڑھتے ہیں۔ مگر قرآن کو وہی پائے گا جو قرآن کو اپنے خیالات کی تصحیح کے لئے پڑھے۔
مثلاً ایک غیر مسلم قوم سے آپ کو نفرت ہے اور آپ کے ذہن میں یہ بھرا ہوا ہے کہ اس سے ”جہاد“ کیا جائے۔ اب آپ قرآن کو پڑھیں تو آپ کو قرآن میں صرف یہ لکھا ہوا نظر آئے گا کہ ”کافروں سے لڑو“۔ اس کے برعکس اگر آپ خالی الذہن ہو کر قرآن کو پڑھیں تو آپ دیکھیں گے کہ قرآن یہ کہہ رہا ہے کہ ان قوموں تک خدا کی دعوت پہنچاؤ۔ پہلا مطالعہ آپ کو دیگر اقوام سے بیزاری کا سبق دے گا اور دوسرا مطالعہ آپ کو دیگر اقوام سے محبت پر ابھارے گا۔ پہلے مطالعہ کے مطابق آپ کے اور دوسری قوموں کے درمیان حریف اور رقیب کا رشتہ قائم ہو گا اور دوسرے مطالعہ کے مطابق داعی اور مدعو کا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے یضل به کثیراً و یھدی به کثیراً طرابلس میں بہت سے عرب نوجوانوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ کبھی ایک دو کی صورت میں اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ کئی کئی نوجوان اکٹھے ملنے کے لئے آئے۔ میں نے ان لوگوں سے گفتگو میں خاص طور پر جس پر زور دیا وہ یہ تھا کہ اسلام کا طریقہ کھلے ہوئے دائروں میں کام کرنے کا ہے نہ کہ بند دائروں میں سر ٹکرانے کا۔ عرب دنیا میں بہت بڑے پیمانہ پر نوجوانوں میں اسلام کے لئے کام کرنے کا جذبہ بھرا ہے۔ مگر ان کی اکثریت اسلام کی سیاسی تفسیر سے متاثر ہے اور حکمرانوں سے ٹکراؤ کو کام سمجھتی ہے۔ میں نے صفائی کے ساتھ کہا کہ میں اس قسم کی سیاست کو اسلامی سیاست نہیں سمجھتا۔ یہ یقینی طور پر اسلام سے انحراف ہے۔ اور مزید یہ کہ یہ اپنے وقت اور قوت کو ایسے میدان میں لگانے نام ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ میں نے مزید کہا کہ یہ بات میں کسی مصلحت کی بنا پر نہیں کہتا۔ بلکہ یہی میرا مستقل نظریہ ہے اور میں ۲۰ سال سے مسلسل تقریر اور تحریر کے ذریعہ اسی کی اشاعت کر رہا ہوں۔
ہوٹل الکبیر میں ایک روز میری ملاقات ایک افغانی نوجوان سے ہوئی ۔ وہ ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ اب اس کے والدین سوئزرلینڈ میں رہتے ہیں اور یہ نوجوان وہیں پر تعلیم حاصل کر رہا ہے۔
اس نوجوان کا نام نجیب اللہ طیبی ہے۔ اس کی عمر ۲۱ سال ہے۔ وہ صرف انگریزی یا فرنچ بول سکتا ہے۔ اس خوبصورت افغانی نوجوان سے میں نے پوچھا کہ آپ کی قوم اگر روسیوں سے لڑنے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues