Your freedom ends where my nose begins
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۴۵
کے لئے آپ کو افغانستان بلائے تو کیا آپ وہاں جاکر لڑنا پسند کریں گے۔ اس نے فوراً کہا ہاں۔ میں نے کہا کیا آپ کے والدین آپ کو افغانستان جانے کی اجازت دیں گے۔ جب کہ موجودہ حالات میں وہاں جانا گویا اپنے آپ کو موت کے حوالے کرنا ہے۔ اس نے جواب دیا، میں اپنے والدین کی اجازت کے بغیر وہاں جاؤں گا۔
بات چیت کے دوران میں میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کی یہ جنگ قوم کے لئے ہے یا خدا کے لئے ہے۔ اس نے کہا دونوں کے لئے۔ اس کے بعد کچھ دیر سوچ کر بولا۔
I was born in my country and I want to die in my country میں اپنے ملک میں پیدا ہوا اور اپنے ملک ہی میں مرنا چاہتا ہوں۔
ایک روز میں ہوٹل کی کسی منزل پر لفٹ کے انتظار میں کھڑا تھا۔ لفٹ کا دروازہ کھلا تو اس کے اندر سے کئی عورتیں برآمد ہوئیں۔ سب کی سب خالص مغربی لباس میں تھیں۔ میں نے سمجھا کہ یہ مغرب کی خواتین ہیں۔ وہ آپس میں باتیں کر رہی تھیں ۔ ایک خاتون کی آواز کان میں آئی: مافش فائدہ (اس میں کچھ فائدہ نہیں)، اس جملہ کو سن کر میں نے سمجھا کہ وہ عرب خواتین ہیں۔ اس قسم کی خواتین یہاں مصری یا لبنانی ہوتی ہیں جو کام کے تحت یہاں مقیم ہیں۔
ایک روز میں نے اپنے کمرہ کا ٹیلی وژن کھولا تو فلم "الرسالہ" آرہی تھی۔ یہ وہ مشہور فلم ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں بنائی گئی ہے۔ اسی طرح لیبیا کے مشہور مجاہد آزادی عمر مختار کی فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا جس کا نام "اسد الصحراء" ہے۔ اسد الصحراء نہایت کامیاب فلم ہے۔ بلکہ فلموں کا شاہکار ہے۔ دوسری طرف "الرسالہ" ایک غیر مؤثر فلم نظر آئی۔ سیرت کا مطالعہ کرنے والے کو پیغمبر اسلام کی زندگی جتنی عظیم نظر آتی ہے، فلم کی تصویر کشی میں وہ بہت کم ہو گئی ہے۔ خالص فنی اعتبار سے غالباً اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس میں وہی ہستی کہیں نظر نہیں آتی جو کہانی کی اصل ہیرو ہے۔ مخصوص اسباب سے چوں کہ فلم ساز نہ اس میں پیغمبر اسلام کی شخصیت کو پیش کر سکا ہے اور نہ آپ کی آواز کو، اس لئے فلم گو یا بے فلم ہو کر رہ گئی ہے۔
اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ جو بات فلم "الرسالہ" میں جائز طور پر ہے وہی پوری تاریخ میں ناجائز طور پر پائی جاتی ہے۔ حضرت نوح سے لے کر حضرت مسیح تک دنیا میں ہزاروں پیغمبر آئے ۔ مگر انسانی تاریخ میں پیغمبروں اور ان کے کارناموں کا کوئی ذکر نہیں۔ انسان کی مدون تاریخ پیغمبروں کے ذکر سے خالی ہے۔ حتی کہ انسان نے موجودہ زمانہ میں عالم فطرت کی جو کہانی لکھی ہے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues