Al-Risala · December 1983 · page 14

سرسبز درخت

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۴

سرسبز درخت

درخت جب بلند ہو کر فضا میں اپنی شاخیں پھیلانا ہے اور ایک ہرے بھرے وجود کی صورت میں زمین پر کھڑا ہو جاتا ہے تو وہ دیکھنے والوں کی نظر میں کتنا حسین ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذات میں ایک کامل وجود ہے۔ اس نے وہ سب کچھ پا لیا ہے جو اسے پا نا تھا ، اس نے کائنات میں اپنے لئے وہ جگہ حاصل کر لی ہے جو اسے درکار تھی۔

اس کے برعکس انسان کو دیکھیے تو انسان ایک محروم اور ناکام وجود نظر آتا ہے۔ یہاں پائے ہوئے لوگ بھی اندر سے خالی ہیں۔ کامیاب لوگ بھی مستقل طور پر ناکامی کے احساس سے دوچار ہیں۔ انسان اس کائنات کی اعلیٰ ترین مخلوق ہے۔ وہ دوسری تمام چیزوں سے برتر اوصاف اپنے اندر رکھتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کا دوسری انواع سے پیچھے ہونا کس قدر عجیب ہے۔

ایک درخت کا دوسرے درخت سے کوئی ٹکراؤ نہیں، جب کہ ایک انسان دوسرے انسان سے لڑتا ہے۔ جس درخت سے جس پھل کی امید کی جاتی ہے وہ ہمیشہ اپنی شاخ پر وہی پھل نکالتا ہے۔ جب کہ انسان کا حال یہ ہے کہ اس سے جو امید کی جائے اس پر وہ پورا نہیں اترتا۔ درخت اپنے دشمن کو بھی سایہ دیتا ہے اور اپنے دوست کو بھی۔ جب کہ انسان اپنے دوست کے لئے کچھ ثابت ہوتا ہے اور غیر دوست کے لئے کچھ۔

اس فرق کا کوئی پر اسرار سبب نہیں۔ اس کا سبب دونوں کے مطالعہ سے بہ آسانی معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ درخت اور دوسری چیزیں اپنے خالق کے نقشہ پر قائم ہیں۔ اس کے برعکس انسان اپنے خالق کے نقشہ پر قائم نہیں یہ کائنات ایک مرکزی اور مجموعی نقشہ کے مطابق بنی ہے۔ یہاں امن و سکون اس مرکزی اور مجموعی نقشہ سے مطابقت کے ذریعہ ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہاں کامیابی کائناتی منصوبہ سے ہم آہنگی کی قیمت ہے اور ناکامی اس سے ہم آہنگ نہ ہونے کی قیمت۔

خدا کی طرف سے جو پیغمبر آتے ہیں وہ دراصل اسی خلا کو پر کرنے کے لئے آتے ہیں۔ پیغمبروں کی تعلیمات یہ بتاتی ہیں کہ انسان کس طرح اپنے آپ کو کائنات کی مجموعی اسکیم سے ہم آہنگ کرے ۔ وہ کس اسلوب حیات کو اختیار کرے کہ وہ بھی خدا کی دنیا میں ایک " ہرا بھرا درخت " بن کر کھڑا ہو سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues

Printed page