کتاب محفوظ
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۷
قرآن تمام آسمانی کتابوں میں واحد کتاب ہے جس میں کسی قسم کے تحریف نہ ہوسکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پچھلی آسمانی کتابوں کی حفاظت کی ذمہ داری خود ان کتابوں کے حامل انسانوں پر ڈالی گئی تھی۔ اسی لئے قرآن میں ان کے لئے استحفاظ کا لفظ آیا ہے۔ یعنی حفاظت چاہنابما استحافظوا من کتاب الله اس کے برعکس قرآن کے بارہ میں حافظ کا لفظ آیا ہے یعنی حفاظت کرنے والا (انا نحن نزلنا الذکر وانا له لحافظون) قرآن میں ایسے بہت سے مواقع تھے جہاں حاملین قرآن کے لئے گنجائش تھی کہ وہ اس میں مذکورہ بالا قسم کی تبدیلیاں کر ڈالیں۔ کثرت سے اس کی مثالیں موجود ہیں کہ انہوں نے عمداً ایسا کیا بھی مگر انہوں نے جو کچھ کیا وہ ” حاشیہ “ کی حد تک محدود رہا۔ ” متن “ میں وہ کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہ کر سکے۔ حاشیہ اور تفسیر میں چونکہ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے نہ تھے ، اس لئے اس میں انہوں نے طرح طرح کی معصومانہ تبدیلیاں کر دیں۔ مگر جہاں تک متن کا تعلق ہے ، اس کو خدا نے براہ راست اپنی نگرانی میں لے رکھا تھا، اس لئے یہاں وہ کسی قسم کا رُدو بدل کرنے سے قاصر ہے۔ اس موقع پر وضاحت کے لئے ہم دو مثالیں دیتے ہیں۔ قرآن کی پہلی نزولی آیت ہے : اقرأ باسم ربک الذی خلق (پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا) اسی طرح دوسرے مقام پر ہے سنقرئک فلا تنسي (ہم تجھ کو پڑھا دیں گے پھر تو نہ بھولے گا)، ان آیات میں اقرأ اور سنقرئ کے الفاظ سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے سامنے کوئی کتاب یا کوئی لکھی ہوئی چیز رکھی گئی اور کہا گیا کہ اس کو پڑھو۔
یہ بات مسلمانوں کے عام عقیدہ کے سراسر خلاف ہے۔ کیونکہ مسلمان ساری دنیا میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آپ اُمّی تھے۔ گویا آیت کے یہ الفاظ اپنے ظاہر کے اعتبار سے مسلمانوں کے عقیدہ میں مانع ہیں اور مخالفین اسلام کو غیر ضروری طور پر یہ کہنے کا موقع دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم امی نہیں تھے بلکہ پڑھے لکھے تھے۔ اس کے باوجود ایسا نہیں ہوا کہ دوسری کتابوں کے متن کی طرح مسلمان قرآن کے ان الفاظ کو بدل دیں۔ یہ قرآن کے محفوظ کتاب ہونے کا ایک واضح داخلی ثبوت ہے۔ ورنہ اگر دوسری کتابوں کی طرح کا معاملہ ہوتا تو قرآن میں ہم کو اقرأ کی جگہ اُسْتُلْ یا تَسْتُّلْ لکھا ہوا ملتا۔ اسی طرح لکھنے والوں نے سنقرئكَ کی بجائے سنحفظک لکھ دیا ہوتا۔
اسی طرح ایک مثال سورہ قيامة کی ایک آیت وَقِيلَ مَن راقِ اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک والا) ہے۔ تمام دنیا کے مسلمان جب اس آیت کو پڑھتے ہیں تو وہ مِنْ پر وقف کرتے ہیں۔ یعنی من کے بعد کسی قدر رک کر سر اق کہتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues