کتاب محفوظ
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۸
ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے والے اصحاب نے بیان کیا کہ آپ نے جب یہ آیت پڑھی تو آپ نے حرف من پر وقفہ کیا۔ ورنہ نحو و صرف کے فن کے اعتبار سے اس کی کوئی بھی وجہ نہیں ہے کہ یہاں یہ وقفہ کیوں کیا جائے۔ اگر قرآن کے ساتھ اس کے حاملین وہ معاملہ کر سکتے جو دوسری کتابوں کے ساتھ اس کے حاملین نے کیا تو لازماً ایسا ہوتا کہ یہ وقفہ باقی نہ رہتا۔ ایسی حالت میں مسلمان اس کو وقيل من راق پڑھتے نہ کہ وقيل من (سکتہ) راق ۔
اسی طرح قرآن میں ہے: يا ايها النبي اذا طلقتم النساء (اے نبی جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو) یہ جملہ نحو و صرف کے عام قاعدہ کے خلاف ہے۔ اس میں واحد سے خطاب کر کے جمع کی ضمیر لائی گئی ہے۔ عام لکھنے اور بولنے والے کبھی ایسا نہیں کرتے۔ اگر قرآن کا وہ معاملہ ہوتا جو دوسری آسمانی کتابوں کا ہے تو یقیناً طور پر ایسا ہوتا کہ کچھ مسلمان اس آیت کے الفاظ کو ءبدل کر اس طرح لکھ چکے ہوتے : يا ايها النبي اذا طلقت النساء ، يا يا ايها الرسل اذا طلقتم النساء ۔
یہی معاملہ طرز تحریر کا ہے۔ عربی فن خطاطی نے بعد کے زمانہ میں بہت ترقی کی۔ جبکہ قرآن اس وقت لکھا گیا جب کہ فن خطاطی نے ابھی اتنی ترقی نہیں کی تھی۔ چنانچہ قرآن کے طرز کتابت میں اور عام خطاطوں کے طرز کتابت میں بہت سے مقامات پر فرق ہے۔ مثلاً قرآن میں مالک کو ملك لکھا ہوا ہے۔ حتی کہ اس طرز کتابت کی وجہ سے آیت کے دو تلفظ بن گئے ہیں۔ کوئی اس کو مالك يوم الدين پڑھتا ہے اور کوئی اس کو ملك يوم الدين پڑھتا ہے۔ اس کے باوجود کسی کے لئے یہ ممکن نہ ہوا کہ آیت کا املا بدل کر اس کو مالك يوم الدين بنا دے۔ قرآن کے حاشیہ میں بعد کے لوگوں نے جو تبدیلیاں کی ہیں۔ ان میں سے ایک مثال قرآن کی یہ آیت ہے: اني جاعل في الارض خليفة (میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں) بعد کے متعدد مفسرین نے اس آیت میں خلیفہ کے لفظ کو خلیفة الله کے ہم معنی بنا دیا اور اس کی تشریح ان الفاظ میں کی کہ ــــــــ خدا نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں اپنا ایک خلیفہ مقرر کرنے والا ہوں ۔ حالانکہ اپنا کا لفظ یہاں سراسر اضافہ ہے۔ ان حضرات نے حاشیہ میں تو اس قسم کے اضافے خوب کئے مگر متن میں اضافہ کرنا ان کے لئے ممکن نہ ہوسکا۔ اگر قرآن کے متن پر خدا کا پہرہ نہ ہوتا تو غالباً وہ آیت کے الفاظ کو نا کافی سمجھ کر اس کو اس طرح لکھ دیتے :
انى جاعل في الارض خليفتي یا انی جاعل في الارض خليفة منی دوسری آسمانی کتابوں میں سے ہر کتاب میں یہ ہوا ہے کہ ان کتابوں کے ماننے والے اپنے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues