Al-Risala · December 1983 · page 19

کتاب محفوظ

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۹

طور پر جو کچھ چاہتے تھے وہ سب انھوں نے خدا کی کتاب میں کہیں نہ کہیں داخل کر دیا۔ مثال کے طور پر یوحنا کی موجودہ انجیل میں ہم کو یہ فقرہ ملتا ہے:

’’دوسرے دن اس نے یسوع کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کہا، دیکھو یہ خدا کا برہ ہے جو دنیا کا گناہ اٹھائے جاتا ہے۔ یہ وہی ہے جس کی بابت میں نے کہا تھا کہ ایک شخص میرے بعد آتا ہے جو مجھ سے مقدم ٹھہرا ہے کیونکہ وہ مجھ سے پہلے تھا، (یوحنا ۱)

انجیل یوحنا کا یہ فقرہ حضرت یحییٰ کی زبان سے حضرت مسیح کے بارہ میں ہے۔ حضرت یحییٰ کی یہ تقریر بقیہ تینوں انجیلوں میں بھی ہے مگر ان میں ’’جو دنیا کا گناہ اٹھائے جاتا ہے‘‘ موجود نہیں۔ یہ الفاظ یقینی طور پر بعد کو اصل تقریر میں اس لئے بڑھائے گئے تاکہ ان سے کفارہ کا عقیدہ نکالا جا سکے۔ بعد کے مسیحیوں کا پسندیدہ عقیدہ (کفارہ) کو انجیل سے ثابت کرنے کے لئے حضرت یحییٰ کی مذکورہ تقریر میں یہ جملہ بڑھا دیا گیا۔

یہی بات قرآن میں بھی ہو سکتی تھی۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے بہت سے انتہائی محبوب عقیدے بھی قرآن کے متن کے اندر موجود نہیں۔ مثال کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا افضل الانبیاء ہونا اور خدا کے یہاں آپ کا شفیع المذنبین ہونا مسلمانوں کے محبوب ترین عقائد ہیں۔ مگر قرآن میں کسی مقام پر وہ واضح طور پر موجود نہیں ہیں۔ مسلمان یہ تو کر سکے کہ اپنے ان عقائد کو بعض آیات سے بطریق استنباط نکالیں۔ مگر وہ ان کو متن قرآن میں داخل نہ کر سکے۔ اگر مسلمانوں کو متن میں تصرف کی قدرت حاصل ہوتی تو یقیناً آج ہم قرآن میں کوئی ایسی آیت پڑھتے جس کے الفاظ یہ ہوتے:

يا محمد انت افضل الانبياء و انت شفيع المذنبين يوم القيامة یہ چند مادہ قسم کی داخلی مثالیں ہیں۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن آج بھی اسی ابتدائی حالت میں موجود ہے جس حالت میں اس کے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے زمانہ میں لکھوایا تھا۔ اس میں کسی قسم کا معمولی تغیر بھی نہ ہو سکا۔

اب ظاہر ہے کہ قرآن جب واحد آسمانی کتاب ہے جس کا متن پوری طرح محفوظ ہے تو اسی کا حق ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کے لئے واحد رہنما کتاب بنے جو وحی الہی کو مانتے ہیں اور خدا کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ محفوظ اور غیر محفوظ دونوں قسم کی کتابوں کی موجودگی میں یقینی طور پر محفوظ کتاب کی پیروی کی جائے گی۔ نہ کہ غیر محفوظ اور تبدیل شدہ کتاب کی۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues

Printed page