آزمائش
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۷
آزمائش
قرآن میں ارشاد ہوا ہے: کیا لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ وہ اتنا کہنے پر چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کو آزمایا نہ جائے گا۔ حالاں کہ ہم ان سب لوگوں کی آزمائش کر چکے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں پس ضرور ہے کہ اللہ یہ جان لے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون (عنکبوت ۳) دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے: کیا تم لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ تم کو جنت کا داخلہ مل جائے گا۔ حالاں کہ ابھی تم پر وہ حالات گزرے ہی نہیں جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزر چکے ہیں۔ ان پر سختیاں گزریں اور مصیبتیں آئیں اور وہ ہلا مارے گئے ۔ یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھی اہل ایمان پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔ سن لو کہ اللہ کی مدد قریب ہے (بقرہ ۲۱۴)
اسی طرح ارشاد ہوا ہے کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم چھوڑ دئے جاؤ گے۔ حالانکہ ابھی اللہ نے جانا ہی نہیں کہ تم میں کون لوگ ہیں جنھوں نے جہاد کیا اور اللہ اور رسول اور مومنین کے سوا کسی کو دوست نہیں بنایا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے (توبہ ۱۶) اسی طرح ارشاد ہوا ہے: کیا تم نے سمجھا ہے کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے۔ حالانکہ ابھی اللہ نے یہ جانا ہی نہیں کہ تم میں سے کون ہیں جنھوں نے جہاد کیا اور کون ہیں جو صبر کرنے والے ہیں (آل عمران ۱۴۲)
یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے:
اشد الناس بلاء الانبیاء ثم الصالحون سب سے زیادہ سخت آزمائش پیغمبروں ثم الامثل فالامثل۔ یبتلی الرجل علی کی ہے۔ ان کے بعد صالحین کی، پھر درجہ حسب دينہ فان كان في دينہ صلابۃ بدرجہ ان سے مشابہت رکھنے والوں کی، آدمی زید له في البلاء (تفسير ابن كثير) کا امتحان اس کے دین کے مطابق ہوتا ہے۔ پس اگر اس کے دین میں مضبوطی ہو تو اس کی آزمائش میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کی جنت یا اس کی ترقی درجات کا فیصلہ معمول کی دین داری پر نہیں ہوتا۔ بلکہ ان خاص لمحات میں ہوتا ہے جب کہ اس کا رب اس کے دین کا امتحان لے رہا ہو۔ مگر عجیب بات ہے کہ آدمی ٹھیک اسی مقام پر ناکام ہو جاتا ہے جہاں اس کو کامیابی کا ثبوت دینا چاہئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues