معبود کی تلاش
الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۲۴
ہم صریح طور پر دیکھتے ہیں کہ ایک انسان دوسرے انسان پر ظلم کرتا ہے اور دونوں اس حال میں مرجاتے ہیں کہ ایک ظالم ہوتا ہے اور دوسرا مظلوم کیا ظالم کو اس کے ظلم کی سزا اور مظلوم کو اس کی مظلومیت کا بدلہ دیے بغیر دونوں کی زندگی کو مکمل کہا جا سکتا ہے۔ ایک شخص سچ بولتا ہے اور حق داروں کو ان کے حقوق ادا کرتا ہے جس کے نتیجہ میں اس کی زندگی مشکل کی زندگی بن جاتی ہے، دوسرا شخص جھوٹ اور فریب سے کام لیتا ہے اور جس کی جو چیز پاتا ہے ہڑپ کرلیتا ہے جس کے نتیجہ میں اس کی زندگی نہایت عیش و عشرت کی زندگی بن جاتی ہے۔ اگر یہ دنیا اسی حال میں ختم ہو جائے تو کیا دونوں انسانوں کے اس مختلف انجام کی کوئی توجیہ کی جاسکتی ہے۔ ایک قوم دوسری قوم پر ڈاکہ ڈالتی ہے اور اس کے وسائل و ذرائع پر قبضہ کر لیتی ہے مگر اس کے باوجود دنیا میں وہی نیک نام رہتی ہے کیونکہ اس کے پاس نشر و اشاعت کے ذرائع ہیں اور دبی ہوئی قوم کی حالت سے دنیا نا واقف رہتی ہے کیونکہ اس کی آہ کے دنیا کے کانوں تک پہو نچنے کا کوئی ذریعہ نہیں، کیا ان دونوں کی صحیح حیثیت کبھی ظاہر نہیں ہوگی۔ دو اشخاص یا دو قوموں میں ایک مسئلہ پر اختلاف ہوتا ہے اور زبردست کش مکش تک نوبت پہو نچ جاتی ہے۔ دونوں اپنے آپ کو بر سر حق کہتے ہیں اور ایک دوسرے کو انتہائی برا ثابت کرتے ہیں مگر دنیا میں ان کے مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہوتا، کیا ایسی کوئی عدالت نہیں ہے جو ان کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرسکے۔ موجودہ دور کو ایٹمی دور کہا جاتا ہے لیکن اگر اس کو دوسری کا دور کہیں تو زیادہ صحیح ہوگا۔ آج کا انسان صرف اپنی رائے اور خواہش پر چلنا چاہتا ہے خواہ اس کی رائے اور خواہش کتنی ہی غلط کیوں نہ ہو ۔ ہر شخص غلط کار ہے مگر ہر شخص گلے کی پوری قوت کے ساتھ اپنے کو صحیح ثابت کر رہا ہے۔ اخبارات میں لیڈروں اور حکمرانوں کے بیانات دیکھئے، ہر ایک انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ اپنے ظلم کو عین انصاف اور اپنی غلط کاریوں کو عین حق ثابت کرتا ہوا نظر آئے گا۔ کیا اس فریب کا پردہ کبھی چاک ہونے والا نہیں ہے۔
یہ صورت حال صریح طور پر ظاہر کر رہی ہے کہ یہ دنیا نا مکمل ہے۔ اس کی تکمیل کے لئے ایک ایسی دنیا چاہئے جہاں ہر ایک کو اس کا صحیح مقام مل سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues