Al-Risala · February 1983 · page 25

معبود کی تلاش

الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۲۵

مادی دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں کوئی خلا ہے اس کو پر کرنے کے اسباب موجود ہیں۔ مادی دنیا میں کہیں کوئی کمی نظر نہیں آتی۔ اس کے برعکس انسانی دنیا میں ایک زبردست خلا ہے۔ جس قدرت نے مادی دنیا کو مکمل حالت میں ترقی دی ہے کیا اس کے پاس انسانی دنیا کا خلا پر کرنے کا کوئی سامان نہیں۔ ہمارا احساس بعض افعال کو اچھا اور بعض کو برا سمجھتا ہے۔ ہم کچھ باتوں کے متعلق چاہتے ہیں کہ وہ ہوں اور کچھ باتوں کو چاہتے ہیں کہ وہ نہ ہوں۔ مگر ہماری فطری خواہش کے علی الرغم وہ سب کچھ اں ہو رہا ہے جس کو انسانی فطرت برا سمجھتی ہے، انسان کے اندر اس طرح کے احساس کی موجودگی معنی رکھتی ہے کہ کائنات کی تعمیر حق پر ہوئی ہے۔ یہاں باطل کے بجائے حق کو غالب آنا چاہئے۔ پھر کیا حق ظاہر نہیں ہو گا۔ جو چیز مادی دنیا میں پوری ہو رہی ہے کیا وہ انسانی دنیا میں پوری نہیں ہوگی۔

یہی وہ سوالات ہیں جن کے مجموعہ کو میں نے اوپر "انسانیت کے انجام کی تلاش" کہا ہے۔ ایک شخص جب ان حالات کو دیکھتا ہے تو وہ سخت بے چینی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر نہایت شدت سے یہ احساس ابھرتا ہے کہ زندگی اگر یہی ہے جو اس وقت نظر آرہی ہے تو یہ کس قدر لغوزندگی ہے۔ وہ ایک طرف دیکھتا ہے کہ انسانی زندگی کے لئے کائنات میں اس قدر اہتمام کیا گیا ہے گویا یہ سب کچھ صرف اُسی کے لئے ہے، دوسری طرف انسان کی زندگی اس قدر مختصر اور اتنی ناکام ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کو کس لئے پیدا کیا گیا ہے۔

اس سوال کے سلسلہ میں آج لوگوں کا رجحان عام طور پر یہ ہے کہ اس قسم کے جھنجھٹ میں پڑنا فضول ہے۔ یہ سب فلسفیانہ سوالات ہیں، اور حقیقت پسندی یہ ہے کہ زندگی کا جو لمحہ تمہیں حاصل ہے اس کو پر مسرت بنانے کی کوشش کرو۔ آئندہ کیا ہوگا یا جو کچھ ہو رہا ہے وہ صحیح ہے یا غلط ، اس کی فکر میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ اس جواب کے بارہ میں کم از کم بات جو کہی جا سکتی ہے وہ یہ کہ جو لوگ اس انداز میں سوچتے ہیں انھوں نے ابھی انسانیت کے مقام کو نہیں پہچانا ، وہ مجاز کو حقیقت سمجھ لینا چاہتے ہیں۔ واقعات انھیں ابدی زندگی کا راز معلوم کرنے کی دعوت دے رہے ہیں مگر وہ چند روزہ زندگی پر قانع ہو گئے ہیں۔ انسانی نفسیات کا تقاضا ہے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues

Printed page