Al-Risala · February 1983 · page 26

معبود کی تلاش

الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۲۶

کہ اپنی امنگوں اور حوصلوں کی تکمیل کے لئے ایک وسیع تر دنیا کی تلاش کرو مگر یہ نادان روشنی کے بجائے اس کے سایہ کو کافی سمجھ رہے ہیں۔ کائنات پکار رہی ہے کہ یہ دنیا تمہارے لئے نامکمل ہے، دوسری مکمل دنیا کا کھوج لگاؤ۔ مگر ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم اسی نامکمل دنیا میں اپنی زندگی کی عمارت تعمیر کریں گے، ہم کو مکمل دنیا کی ضرورت نہیں ۔ حالات کا صریح اشارہ ہے کہ زندگی کا ایک انجام آنا چاہئے، مگر یہ لوگ صرف آغاز کو لے کر بیٹھ گئے ہیں اور انجام کی طرف سے آنکھیں بند کر لی ہیں۔ حالانکہ یہ اسی قسم کی ایک حماقت ہے جو شتر مرغ کے متعلق مشہور ہے۔ اگر فی الواقع زندگی کا کوئی انجام ہے تو وہ آکر رہے گا اور کسی کا اس سے غافل ہونا اس کو روکنے کا سبب نہیں بن سکتا ۔ البتہ ایسے لوگوں کے حق میں وہ ناکامی کا فیصلہ ضرور کر سکتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زندگی کو کل زندگی سمجھنا اور صرف آج کو پر مسرت بنانے کی کوشش کو اپنا مقصد بنا لینا بڑی کم ہمتی اور بے عقلی کی بات ہے۔ آدمی اگر اپنی زندگی اور کائنات پر تھوڑا سا بھی غور کرے تو اس نقطہ نظر کی لغویت فورا واضح ہو جاتی ہے ایسا فیصلہ وہی کر سکتا ہے جو حقیقتوں کی طرف سے آنکھیں بند کرے اور بالکل بے سمجھی بوجھی زندگی گزارنا شروع کر دے۔

یہ ہیں وہ چند سوالات جو کائنات کو دیکھتے ہی نہایت شدت کے ساتھ ہمارے ذہن میں ابھرتے ہیں۔ اس کائنات کا ایک خالق ہونا چاہئے، مگر اس کے متعلق ہمیں کچھ نہیں معلوم۔ اس کا ایک چلانے والا اور اس کو سنبھالنے والا ہونا چاہئے ، مگر ہم نہیں جانتے کہ وہ کون ہے۔ ہم کسی کے احسانات سے ڈھکے ہوئے ہیں اور مجسم شکر و سپاس بن کر اس ہستی کو ڈھونڈھنا چاہتے ہیں جس کے آگے اپنے عقیدت کے جذبات کو نثار کر سکیں، مگر ایسا کوئی وجود ہمیں نظر نہیں آتا۔ ہم اس کائنات کے اندر انتہائی عجز اور بے بسی کے عالم میں ہیں، ہم کو ایک ایسی پناہ کی تلاش ہے جہاں پہنچ کر ہم اپنے آپ کو محفوظ تصور کر سکیں، مگر ایسی کوئی پناہ ہماری آنکھوں کے سامنے موجود نہیں ہے۔ پھر جب ہم اپنی زندگی اور اپنی عمر کو دیکھتے ہیں تو کائنات کا یہ تضاد ہم کو ناقابل فہم معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کی عمر تو کھربوں سال ہو اور انسان جو کائنات کا خلاصہ ہے اس کی عمر

‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues

Printed page