معبود کی تلاش
الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۲۷
صرف چند سال۔ فطرت ہم کو بے شمار امنگوں اور حوصلوں سے معمور کرے مگر دنیا کے اندر اس کی تسکین کا سامان فراہم نہ کرے۔
پھر سب سے زیادہ سنگین تضاد وہ ہے جو مادی دنیا اور انسانی دنیا میں پایا جاتا ہے۔ مادی دنیا انتہائی طور پر مکمل ہے، اس میں کہیں خلا نظر نہیں آتا، مگر انسانی زندگی میں زبردست خلا ہے۔ اشرف المخلوقات کی حالت ساری مخلوق سے بدتر نظر آتی ہے۔ ہماری بدقسمتی کی انتہا یہ ہے کہ اگر پٹرول کا کوئی نیا چشمہ دریافت ہو یا بھیڑ بکریوں کی نسل بڑھے تو اس سے انسان خوش ہوتا ہے، مگر انسانی نسل کا اضافہ ہمارے لیے گوارہ نہیں۔ ہم اپنی مشکلوں سے اس قدر پریشان ہیں کہ انسان کی پیدائش کو روک دینا چاہتے ہیں۔ انسان کی نارسائی یہ سوالات ہم کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں، وہ اندر سے بھی اہل رہے ہیں اور باہر سے بھی ہمیں گھیرے ہوئے ہیں، مگر ہمیں نہیں معلوم کہ ان کا جواب کیا ہے۔ یہ زندگی کی حقیقت معلوم کرنے کا سوال ہے، مگر کس قدر عجیب بات ہے کہ ہمیں زندگی تو مل گئی مگر اس کی حقیقت ہمیں نہیں بتائی گئی۔
اس حقیقت کی دریافت کے لیے جب ہم اپنی عقل اور اپنے تجربات کی طرف دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا صحیح اور قطعی جواب معلوم کرنا ہماری عقل اور ہمارے تجربہ کے بس سے باہر ہے۔ اس سلسلہ میں اب تک ہم نے جو رائیں قائم کی ہیں وہ اٹکل سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتیں۔ جس طرح ہماری نظر کا دائرہ محدود ہے اور ہم ایک مخصوص جسامت سے چھوٹی چیز کا مشاہدہ نہیں کر سکتے اور ایک مخصوص فاصلے سے آگے کے اجسام کو نہیں دیکھ سکتے، اسی طرح کائنات کے متعلق ہمارا علم بھی ایک تنگ دائرہ میں محدود ہے جس کے آگے یا پیچھے کی ہمیں کوئی خبر نہیں۔ ہمارا علم نامکمل ہے، ہمارے حواس خمسہ ناقص ہیں۔ ہم حقیقت کو نہیں دیکھ سکتے۔ میدہ اور کالک کو اگر ملایا جائے تو بھورے خاکستری رنگ کا ایک سفوف سا بن جاتا ہے، لیکن اس سفون کا باریک کیٹ اجو سفون کے ذروں ہی کے برابر ہوتا ہے اور صرف خوردبین کی مدد سے دیکھا جا سکتا ہے وہ اس کو کچھ سیاہ اور کچھ سفید رنگ کی چٹان سمجھتا ہے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues