Al-Risala · February 1983 · page 28

معبود کی تلاش

الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۲۸

اس کے مشاہدہ کے پیمانہ میں خاکستری سفوف کوئی چیز ہمیں۔

نوعِ انسانی کی زندگی اس زمانہ کے مقابلہ میں جب کہ یہ کرہ ارض وجود میں آیا اس قدر مختصر ہے کہ کسی شمار میں نہیں آتی ، اور خود کرۂ ارض کائنات کے اتھاہ سمندر میں ایک قطرہ کے برابر بھی نہیں۔ ایسی صورت میں انسان کائنات کی حقیقت کے بارہ میں جو خیال آرائی کرتا ہے ، اس کو اندھیرے میں ٹٹولنے سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ہماری انتہائی لاعلمی فوراً ظاہر ہوجاتی ہے جب ہم کائنات کی وسعت کا تصور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اگر آپ اس بات کو سامنے رکھیں کہ آفتاب اسی کھرب سال سے موجود ہے اس زمین کی عمر جس پر ہم بستے ہیں دو ارب سال ہے ، اور زمین پر زندگی کے آثار نمایاں ہوئے تین کرور سال گذر چلے ہیں مگر اس کے مقابلہ میں زمین پر ذی عقل انسان کی تاریخ چند ہزار سال سے زیادہ نہیں تو یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ چند ہزار سال کا زمانہ جس میں انسان نے اپنی معلومات فراہم کی ہیں ، اس طویل زمانہ کا ایک بہت حقیر جز ر ہے جو کہ دراصل کائنات کے اسرار کو معلوم کرنے کے لئے درکار ہے۔ کائنات کے بے حد طویل ماضی اور نامعلوم مستقبل کے درمیان انسانی زندگی محض ایک لمحہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہمارا وجود ایک نہایت حقیر قسم کا درمیانی وجود ہے جس کے آگے اور پیچھے کی ہمیں کوئی خبر نہیں۔ ہماری عقل کو عاجزی کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اس کائنات کی وسعت لامحدود ہے اور اس کو سمجھنے کے لئے ہماری عقل اور ہمارا تجربہ بالکل ناکافی ہیں، ہم اپنی محدود صلاحیتوں کے ذریعہ کبھی بھی اس کو سمجھ نہیں سکتے۔ اب تک کی کوششوں کی ناکامی اس کو ثابت کرنے کے لئے بالکل کافی ہے۔

اس طرح ہمارا علم اور ہمارا مطالعہ ہم کو ایک ایسے مقام پر لاکر چھوڑ دیتے ہیں۔ جہاں ہمارے سامنے بہت سے سوالات ہیں ، ایسے سوالات جو لازمی طور پر اپنا جواب چاہتے ہیں۔ جن کے بغیر انسانی زندگی بالکل لغو اور بے کار نظر آتی ہے۔ مگر جب ہم ان پر سوچنے بیٹھتے ہیں تو ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنے ذہن سے ان کا جواب معلوم نہیں کر سکتے۔ ہم کو وہ آنکھ ہی نہیں ملی جس سے حقیقت کا مشاہدہ کیا جا سکے۔ اور وہ ذہن نہیں حاصل نہیں ہے جو براہ راست حقیقت کا ادراک کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues

Printed page