Al-Risala · February 1983 · page 29

پیغمبر کی ضرورت

الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۲۹

پیغمبر کی ضرورت

اس موقع پر ایک شخص ہمارے سامنے آتا ہے اور کہتا ہے کہ جس حقیقت کو تم معلوم کرنا چاہتے ہو، اس کا علم مجھے دیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ:

”اس کائنات کا ایک خدا ہے جس نے سارے عالم کو بنایا ہے، اور اپنی غیر معمولی قوتوں کے ذریعہ اس کا انتظام کر رہا ہے۔ جو چیزیں تمہیں حاصل ہیں وہ سب اسی نے تمہیں دی ہیں اور سارے معاملات کا اختیار اسی کو ہے۔ یہ جو تم دیکھ رہے ہو کہ مادی دنیا کے اندر کوئی تضاد نہیں، وہ ٹھیک ٹھیک اپنے فرائض انجام دے رہی ہے اور اس کے برعکس انسانی دنیا ادھوری نظر آتی ہے، یہاں زبردست خلفشار برپا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کو آزادی دے کر اسے آزمایا جا رہا ہے۔ تمہارا مالک یہ چاہتا ہے کہ اس کا قانون جو مادی دنیا میں براہِ راست نافذ ہو رہا ہے اس کو انسان اپنی زندگی میں خود سے اختیار کرے۔ یہی وجود کائنات کا خالق ہے، وہی اس کا مدبر اور منتظم ہے، وہی تمہارے جذبات شکر کا مستحق ہے اور وہی ہے جو تم کو پناہ دے سکتا ہے۔ اس نے تمہارے لئے ایک لامحدود زندگی کا انتظام کر رکھا ہے جو موت کے بعد آنے والی ہے، جہاں تمہاری امنگوں کی تسکین ہو سکے گی، جہاں حق و باطل الگ الگ کر دیے جائیں گے اور نیکوں کو ان کی نیکی کا اور بروں کو ان کی برائی کا بدلہ دیا جائے گا۔ اس نے میرے ذریعہ سے تمہارے پاس اپنی کتاب بھیجی ہے جس کا نام قرآن ہے۔ جو اس کو مانے گا وہ کامیاب ہوگا اور جو اس کو نہ مانے گا ذلیل کر دیا جائے گا۔ “ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز ہے جو چودہ سو برس پہلے عرب کے ریگستان سے بلند ہوئی تھی اور آج بھی ہم کو پکار رہی ہے۔ اس کا پیغام ہے کہ اگر حقیقت کو معلوم کرنا چاہتے ہو تو میری آواز پر کان لگاؤ اور میں جو کچھ کہتا ہوں اس پر غور کرو۔ کیا یہ آواز حقیقت کی واقعی تعبیر ہے، کیا ہمیں اس پر ایمان لانا چاہئے ۔ وہ کون سی بنیادیں ہیں جن کی روشنی میں اس کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس حقیقت کو وہ اس وقت تسلیم کریں گے جب کہ وہ انھیں نظر آئے۔ وہ حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ مگر یہ مطالبہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues

Printed page