May God prosper this undertaking
الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۳۵
اکثریت ایک طرف ساز و سامان ہوتا ہے اور دوسری طرف بے سروسامانی۔ ایک طرف ملکی باشندوں اور ہمسایہ قوموں کی حمایت ہوتی ہے اور دوسری طرف اپنوں اور غیروں کی متفقہ مخالفت۔ حالات کی انتہائی ناسازگاری سے اس کے ساتھی اکثر گھبرا اٹھتے ہیں مگر وہ ہر بار یہی کہتا ہے کہ انتظار کرو خدا کا فیصلہ آکر رہے گا ، اس کو کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔
اس کے چیلنج پر چوتھائی صدی بھی گز رنے نہیں پاتی کہ وہ مکمل شکل میں پورا ہو جاتا ہے اور تاریخ میں اپنی نوعیت کا واحد واقعہ ظہور میں آتا ہے کہ ایک شخص نے جن دعووں کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کیا تھا ٹھیک اسی شکل میں اس کا دعوی پورا ہوا اور اس کے مخالفین اس میں کوئی کمی بیشی نہ کر سکے۔ حق اور باطل الگ الگ ہو گیا۔ خدا کے فرماں برداروں کو عزت اور غلبہ حاصل ہوا، اور خدا کے نافرمانوں کا زور توڑ کر انھیں محکوم بنا دیا گیا۔
اس طرح اس دعوت نے انسانوں کے لئے جس انجام کی خبر دی تھی اس کا ایک نمونہ دنیا میں قائم کر دیا گیا جو قیامت تک کے لئے عبرت کا نشان ہے، اس نمونہ کی تکمیل آخرت میں ہو گی جب سارے انسانوں کو خدا کی عدالت میں حاضر کر کے ان کا آخری فیصلہ کیا جائے گا۔
۳۔ اس شخص کے دعوے کے برحق ہونے کا تیسرا ثبوت وہ کلام ہے جس کو وہ کلام الہی کہہ کر پیش کرتا ہے۔ اس کلام کے اوپر کتنی ہی صدیاں گزر چکی ہیں مگر اس کی عظمت، اس کی سچائی اور حقیقت کے بارہ میں اس کے بیان کا ایک حرف بھی غلط ثابت نہ ہو سکا جب کہ کوئی بھی انسانی کتاب ایسی نہیں ہے جو ان نقائص سے پاک ہو۔
دوسرے لفظوں میں قرآن بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدا کی کتاب ہے، اس کے بہت سے پہلو ہیں مگر میں یہاں صرف تین پہلوؤں کا ذکر کروں گا، ایک اس کا غیر معمولی انداز بیان، دوسرے اس کے معانی کا تضاد سے پاک ہونا، تیسرے اس کی ابدیت۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues