قرآن اپنی دلیل آپ
الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۳۶
قرآن اپنی دلیل آپ
۱۔ قرآن ایک غیر معمولی کلام ہے۔ اس کو پڑھتے ہوئے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مصنف ایک ایسے بلند مقام سے بول رہا ہے جو کسی بھی انسان کو حاصل نہیں۔ اس کی عبارتوں کا شکوہ، اس کی بے پناہ روانی اور اس کا فیصلہ کن انداز بیان اتنا حیرت انگیز طور پر انسانی کلام سے مختلف ہے کہ صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ مالک کائنات کی آواز ہے کسی انسان کی آواز نہیں۔ اس کا پر یقین اور با عظمت کلام خود ہی بول رہا ہے کہ یہ خدا کی کتاب ہے جس میں خدا اپنے بندوں سے مخاطب ہوا ہے۔ قرآن میں کائنات کی حقیقت بتائی گئی ہے۔ انسان کے انجام کی خبر دی گئی ہے اور زندگی سے متعلق تمام کھلے اور چھپے حالات پر گفتگو کی گئی ہے۔ مگر یہ سب کچھ اس قدر قطعی انداز میں بیان ہوا ہے کہ واقعہ کا اظہار واقعہ کا مشاہدہ معلوم ہونے لگتا ہے۔ قرآن کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا آدمی کو حقیقت کا علم نہیں دیا جا رہا ہے بلکہ اس کو حقیقت کے سامنے لے جا کر کھڑا کر دیا گیا ہے۔ وہ واقعہ کو کتاب کے صفحات میں نہیں پڑھ رہا ہے بلکہ اسکرین کے اوپر اس کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ کلام کی یہ قطعیت صاف ظاہر کر رہی ہے کہ یہ ایک ایسی ہستی کا کلام ہے جس کو حقیقتوں کا براہ راست علم ہے۔ کوئی انسان جو حقیقتوں کا ذاتی علم نہ رکھتا ہو، وہ اپنے کلام میں ہر گز ایسا زور پیدا نہیں کرسکتا۔ یہاں میں نمونہ کے طور پر قرآن کی ایک چھوٹی سی سورت نقل کروں گا۔ إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ ٥ جب آسمان پھٹ جائے گا، وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ ٥ جب ستارے بکھر جائیں گے، وَإِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ ٥ جب دریا ابل پڑیں گے، وَإِذَا الْقُبُورُ بُعْثِرَتْ ٥ جب قبریں الٹ دی جائیں گی، عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ اس دن ہر شخص جان لے گا جو وَأَخَّرَتْ ٥ يَا أَيُّهَا اس نے آگے بھیجا اور جو اس نے پیچھے الْإِنْسَانُ مَا غَرَّكَ چھوڑ اے انسان تجھ کو خداۓ عظیم بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ ٥ کے بارہ میں کس چیز نے دھوکے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues