Al-Risala · February 1983 · page 41

اسی مضمون میں آگے چل کر انھوں نے لکھا ہے

الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۴۱

یہ دعویٰ کیا کہ کائنات محض ایک مادی مشین ہے جو خود بخود حرکت کر رہی ہے۔ یہ نظریہ دوسو برس تک انسانی ذہنوں پر حکومت کرتا رہا۔ ایسا معلوم ہوا کہ علم کی ترقی نے قرآن کے دعویٰ کو رد کر دیا ہے۔ مگر اس کے بعد خود کا ئنات کے مطالعہ سے سائنس دانوں پر یہ منکشف ہوا کہ زندگی اور کائنات کی توجیہ محض مادی قوانین کے ذریعہ نہیں کی جاسکتی اب سائنس دن بدن قرآن کے اس نظریہ کی طرف لوٹ رہی ہے کہ اس کائنات کے پیچھے ایک ذہن ہے جو اپنے ارادہ سے اس کو چلا رہا ہے۔ مشہور سائنس داں سر جیمز جینز اس تبدیلی کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- علم کے دریا نے پچھلے چند برسوں میں نہایت تیزی سے ایک نیا موڑ اختیار کیا ہے۔ تیس سال پہلے ہمارا خیال تھا یا ہم نے فرض کر لیا تھا کہ ہم ایک ایسی آخری حقیقت کی طرف بڑھ رہے ہیں جو اپنی نوعیت میں مشینی ہے۔ ایسا نظر آتا تھا کہ کائنات ایٹموں کے ایک ایسے بے ترتیب انبار پر مشتمل ہے جو اتفاقی طور پر اکٹھا ہو گئے ہیں اور جن کا کام یہ ہے کہ بے مقصد اور اندھی طاقتوں کے عمل کے تحت جو کوئی شعور نہیں رکھتیں ،کچھ زمانہ کے لئے ایک بے معنی رقص کریں جس کے ختم ہونے پر محض ایک مردہ کائنات باقی رہ جائے۔ اس خالص مشینی دنیا میں، مذکورہ بالا اندھی طاقتوں کے عمل کے دوران میں، زندگی ایک حادثہ کے طور پر بالکل اتفاق سے آپہونچی ہے۔ کائنات کا ایک بہت ہی چھوٹا گوشہ یا امکان کے طور پر اس طرح کے کئی گوشے کچھ عرصے کے لئے اتفاقی طور پر ذی شعور ہو گئے ہیں۔ مگر موجودہ معلومات کی روشنی میں طبیعیات کی حد تک سائنس کا اب اس بات پر تقریباً اتفاق ہے کہ علم کا دریا ہمیں ایک غیر مشینی حقیقت (Non-Mechanical Reality) کی طرف لے جا رہا ہے۔

اسی مضمون میں آگے چل کر انھوں نے لکھا ہے

جدید معلومات ہم کو مجبور کرتی ہیں کہ ہم اپنے پچھلے خیالات پر نظر ثانی کریں جو ہم نے جلدی میں قائم کر لئے تھے۔ یعنی یہ کہ ہم اتفاق سے ایک ایسی کائنات میں آپڑے ہیں جس کو خود زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہو

‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues

Printed page