اسی مضمون میں آگے چل کر انھوں نے لکھا ہے
الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۴۲
یا وہ باقاعدہ طور پر زندگی سے عداوت رکھتی ہے۔ اب ہم نے دریافت کر لیا ہے کہ کائنات ایک ایسی خالق یا مدبر طاقت (Designing or Controlling Power) کا ثبوت فراہم کررہی ہے جو ہمارے شخصی ذہن سے بہت کچھ ملتی جلتی ہے۔ “ (ماڈرن سائنٹفک تھاٹ صفحہ ۴۱)
یہ نظری پہلو کی مثال تھی، اب عملی پہلو سے متعلق ایک مثال لیجئے۔ اسلام نے معاشرتی زندگی کا جو قانون بنایا ہے اس میں ایک مرد کو اجازت دی ہے کہ وہ چار عورتوں تک سے شادی کرسکتا ہے۔ اسلام کے بعد جب مغربی تہذیب اٹھی تو اس نے اس قانون کا بہت مذاق اڑایا اور اس کو جاہلیت کے زمانہ کا وحشی قانون قرار دیا۔ اس کے نزدیک یہ قانون عورتوں کے ساتھ سراسر ناانصافی تھی اور اس بنیاد پر کبھی بھی کوئی ترقی یافتہ تمدن تعمیر نہیں کیا جا سکتا تھا۔ چنانچہ مسیحیت میں اگر چہ اس کی گنجائش موجود تھی مگر مغربی تہذیب نے اس کو یک قلم اپنے یہاں سے خارج کر دیا اور اس کو ایک نہایت ذلیل فعل قرار دیا کہ کوئی شخص ایک عورت رکھتے ہوئے دوسری عورت سے شادی کرے۔ اس کی تبلیغ اس زور شور سے کی گئی کہ اب یہ حال ہے کہ نہ کوئی مرد اس کی جرات کر سکتا ہے اور نہ کوئی عورت اپنے بارہ میں ایسا سوچ سکتی ہے کہ وہ کسی شخص کی دوسری یا تیسری بیوی بنے۔
مگر حالات نے۔ ۔۔۔ اور خاص طور پر دوسری جنگ عظیم کے حالات نے۔ اب یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت دراصل زندگی کی ایک عملی ضرورت ہے۔ کبھی بعض افراد کی زندگی میں اور کبھی پوری جماعت کے لئے ایسے غیر معمولی حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ دو میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یا تو فواحش اور بدکاری کو قبول کیا جائے جس کا مطلب پورے تمدن کو ہولناک خطرہ میں مبتلا کر دینا ہے یا تعدد ازدواج کو اختیار کیا جائے جس سے مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے اور کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد ان تمام ملکوں میں جو جنگ میں شریک تھے، یہ صورت حال پیش آئی کہ عورتیں زندہ رہیں اور مرد کثرت سے ہلاک ہو گئے۔ چنانچہ مردوں کی تعداد کم اور عورتوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی جس کا اثر ابھی تک باقی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues