Al-Risala · February 1983 · page 43

اسی مضمون میں آگے چل کر انھوں نے لکھا ہے

الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۴۳

۱۹۵۵ء کے اعداد و شمار کے مطابق جاپان میں ہر ایک مرد کے مقابلہ میں آٹھ عورتیں تھیں۔ اس جنگ کا سب سے زیادہ اثر جرمنی پر پڑا جہاں بے شمار عورتیں بیوہ اور کتنے بچے یتیم ہو گئے اور لڑکیوں کے لئے شوہر ملنا مشکل ہو گیا۔ اس کی وجہ سے ان ملکوں میں لاوارث اور ناجائز بچوں کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ جو یتیم ہو گئے تھے ان کا کوئی وارث نہیں رہا اور جو عورتیں شوہر سے محروم ہو گئی تھیں انہوں نے فطری تقاضے سے مجبور ہو کر اپنی خواہش پوری کرنے کے لئے ناجائز طریقے اختیار کرنے شروع کر دیئے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ جرمنی میں بعض عورتوں کے گھروں پر اس قسم کا بورڈ نظر آنے لگا کہ: (Wanted an Evening Guest)

(رات گزارنے کے لئے ایک مہمان چاہئے)

دوسری جنگ عظیم میں لڑنے والے ملکوں کے بیشمار مرد مارے گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عورتیں شادی شدہ زندگی سے مایوس ہو کر طوائف کی زندگی گزارنے لگیں جیمز کیمروں (James Cameron) دوسری جنگ عظیم میں جرمنی میں نامہ نگار تھے۔ اس سلسلے میں انھوں نے اپنی یادداشت شائع کی ہے۔ یہ برطانوی نامہ نگار اس میں لکھتا ہے کہ جنگ کے خاتمہ پر جب میں برلن گیا تو شکست خوردہ شہر بنیادی طور پر بھوکی طوائفوں (Hungry Whores) سے بھرا ہوا تھا۔ میں نے اس کو اپنے ذہن سے نکالنا چاہا مگر میں نہ نکال سکا ۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں۔ It is not so much that I have no stomach for the fight, I had no stomach for the victory. ایسا نہ تھا کہ جنگ کی برداشت کی طاقت مجھ میں نہ ہو۔ مگر فتح کو برداشت کرنے کی طاقت مجھ میں نہیں بھی (گارڈین، ۱۰ اکتوبر ۱۹۸۲ء)

اگر چہ مغربی ذہن نے ابھی تک اس معاملہ میں اپنی غلطی تسلیم نہیں کی ہے مگر واقعات نے صریح طور پر اس کا غلط ہونا ثابت کر دیا ہے اور وہ دن دور نہیں جب زبان سے بھی اس کو تسلیم کر لیا جائے گا۔ اس وقت معلوم ہوگا کہ نکاح کے معاملہ میں جس اصول کو مغرب نے اختیار کیا تھا اس کا مطلب یہ ہے کہ سماج کو فحاشی میں مبتلا کر کے بے شمار جرائم کا دروازہ کھول دیا جائے۔ جب کہ اسلام کا اصول اصل مسئلہ کو بہترین طریقہ پر حل کرتا ہے اور سماج کو بہت شدید نقصانات سے بچا لیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues

Printed page