Al-Risala · February 1983 · page 44

اسی مضمون میں آگے چل کر انھوں نے لکھا ہے

الرسالہ، فروری ۱۹۸۳، صفحہ ۴۴

قرآن کے نظریات اور اس کے قوانین کی ابدیت کی یہ دو مثالیں تھیں جن سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ انسانی ساخت کے نظریے اور قوانین بن بن کر بگڑتے رہے مگر قرآن نے پہلے دن جو کچھ کہا تھا آخر دن تک اس کی سچائی میں کوئی فرق نہیں آیا وہ پہلے جس طرح حق تھا آج بھی اسی طرح حق ہے۔ قرآن کی یہ خصوصیت ظاہر کرتی ہے کہ وہ ایک ایسے ذہن سے نکلا ہے جس کا علم ماضی اور مستقبل پر محیط ہے۔ قرآن کی ابدیت قرآن کے کلام الہیٰ ہونے کا کھلا ہوا ثبوت ہے۔

آخری بات

ہمارے مطالعہ نے اب ہمارے لئے حقیقت کے دروازے کھول دیے ہیں۔

ہم نے اپنے سفر کا آغاز اس سوال سے کیا تھا کہ "ہم کیا ہیں اور یہ کائنات کیا ہے" اس کا جواب بہت سے لوگوں نے اپنے ذہن سے دینے کی کوشش کی ہے، مگر ہم نے دیکھا کہ یہ جوابات حقیقت کی صحیح تشریح نہیں کرتے۔ پھر ہمارے کانوں میں عرب سے نکلی ہوئی ایک آواز آئی۔ ہم نے اس پر غور کیا، اس کو کائنات کے فریم میں رکھ کر دیکھا، انسانی تاریخ میں اسے آزمایا اور فطرت کی گہرائیوں میں اتر کر اس کو پہچاننے کی کوشش کی ۔ ہم نے دیکھا کہ کائنات، تاریخ اور انسانی نفسیات متفقہ طور پر اس کی تصدیق کر رہے ہیں، ہمارا اتمام علم اور ہمارے بہترین احساسات بالکل اس کی تائید میں ہیں۔ جس حقیقت کی ہمیں تلاش تھی اس کو ہم نے پالیا۔ اب ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1983 All issues

Printed page