پرستش کیا ہے
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۴۰
پرستش کیا ہے
نیلیما دیوی (Nilima Devi) ہندوستان کی ایک رقاصہ ہے۔ وہ رقص کو ایک خدائی آرٹ (Divine art) سمجھتی ہے۔ وہ اپنے فن میں اتنا ڈوبی ہوئی ہے کہ وہ محسوس کرتی ہے کہ وہ رقص کی صورت میں جو کچھ ظاہر کرنا چاہتی ہے وہ ان کو ظاہر نہیں کر پاتی۔ جسمانی حرکات کی محدودیت اس کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ ایک انٹرویو (ہندوستان ٹائمس، ۳۰ دسمبر ۱۹۸۳) میں اس نے کہا کہ رقص وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں جسمانی حرکات ختم ہو جاتی ہیں:
The dance starts where the gymnastics end.
نیلیما دیوی کا کہنا ہے کہ وہ رقص کا کام بطور پیشہ کے نہیں کرتی۔ یہ میرے لئے ایک طریق زندگی ہے۔ انٹرویو لینے والے کے الفاظ میں، جب وہ رقص نہیں کرتی تو وہ اپنے آپ کو خالی محسوس کرتی ہے۔ ایسے لمحات میں اس کے پاس کوئی نقطۂ ارتکاز نہیں ہوتا جس میں وہ اپنی زندگی کو مرتکز کر سکے: She says when she is not dancing she feels empty. There is no focal point in her life at such moments. رقاصہ نے جس چیز کو طریق زندگی (Way of life) کہا، اسی کا دوسرا نام پرستش ہے۔ اوپر کے اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ فن کی پرستش ایک رقاصہ کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ اس کے اندر گہرے جذبات پیدا کر دیتی ہے ۔ وہ رقص کو اس کے لئے زندگی بنا دیتی ہے۔ اس کے اندر جذبات کا ایسا طوفان برپا ہوتا ہے جس کے اظہار سے وہ اپنے کو عاجز محسوس کرنے لگتی ہے۔ اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اپنے رقص کے ذریعہ وہ جو کچھ کہہ سکی ہے وہ اس سے بہت کم ہے جو وہ کہنا چاہتی ہے۔ اس کے بغیر اس کی زندگی خالی ہو جاتی ہے۔ اس سے الگ ہو کر وہ محسوس کرتی ہے کہ اس کے لئے کوئی ایسا مرکزی نقطہ باقی نہیں رہا جہاں وہ اپنے وجود کو سمیٹ سکے۔
خدا کی پرستش کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ وہ ایک خدائی رقص ہے۔ جب کوئی بندہ اپنے رب کو پاتا ہے تو یہ اس کے لئے اتنا عظیم واقعہ ہوتا ہے کہ وہ رقص کراٹھتا ہے۔ اس کا وہی حال ہو جاتا ہے جو مذکورہ مثال میں فن کے پرستار کا نظر آتا ہے ـــــــ خدا اس کے تمام وجود کا مرکزی نقطہ بن جاتا ہے۔ خدا سے الگ اس کی اپنی کوئی زندگی نہیں ہوتی۔ خدا کے بارہ میں اس کے اندر ایسے گہرے جذبات اٹھتے ہیں جن کو بیان کرنے کے لئے وہ الفاظ نہ پا سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues