ٹوٹنے کے بعد
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۵
ٹوٹنے کے بعد
مادہ یلی آخری اکائی ایٹم ہے جس طرح سماج کی آخری اکائی فرد ہوتا ہے۔ اگر ہم ایٹم کو توڑنے میں کامیاب ہوجائیں تو ہم اس کو فنا نہیں کرتے۔ بلکہ اس کو ایک نئی اور زیادہ قوت میں تبدیل کر دیتے ہیں جس کا نام جوہری توانائی (Atomic energy) ہے۔ مادہ منجمد توانائی ہے اور توانائی منتشر مادہ۔ مادہ اپنی ابتدائی شکل میں جتنی قوت رکھتا ہے، اس کے مقابلہ میں اس وقت اس کی قوت بہت بڑھ جاتی ہے جب کہ اس کے ایٹموں کو توڑ کر جو ہری توانائی میں تبدیل کر دیا گیا ہو۔ معمولی مادی قوت اور جوہری قوت میں کیا فرق ہے، اس کا اندازہ اس سے کیجئے کہ دوٹن کوئلہ ایک ریل گاڑی کو ستر میل تک لے جاتا ہے اور نوگیلن کروسین ایک موٹر کو پانچ سو میل تک دوڑانے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں بارہ پونڈ یورینیم جب جوہری توانائی میں تبدیل کر دیا جائے تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ ایک تیز رفتار راکٹ کو دو لاکھ چالیس ہزار میل کا سفر طے کرا سکے۔ ایسا ہی معاملہ اس سماجی اکائی کا ہے جس کو انسان کہتے ہیں۔ انسان جب "ٹوٹتا ہے تو وہ بے پناہ حد تک وسیع ہو جاتا ہے۔ جس طرح مادہ ٹوٹنے سے فنا نہیں ہوتا بلکہ اپنی قوت بڑھا لیتا ہے۔ اسی طرح انسان کی ہستی جب "شکست" سے دوچار ہوتی ہے تو وہ ختم نہیں ہوتی بلکہ نئی شدید تر طاقت حاصل کر لیتی ہے۔
انسان پر شکست کا حادثہ گزرنا اس کے تمام انورونی تاروں کو چھیڑنے کے ہم معنی ہے۔ اس کے بعد اس کے تمام احساسات جاگ اٹھتے ہیں۔ اس کی چھپی ہوئی طاقتیں اپنی ناکامی کی تلافی کے لئے حرکت میں آ جاتی ہیں۔ اس کے عزم و ارادہ کو مہمیز لگتی ہے۔ اس کے اندر ہاری ہوئی بازی کو دوبارہ جیتنے کا وہ بے پناہ جذ بہ پیدا ہوتا ہے جو سیل رواں کی طرح آگے بڑھتا ہے۔ اس کو روکنا کسی کے بس میں نہیں ہوتا، حتیٰ کہ پتھر کی چٹانوں کے بس میں بھی نہیں۔ مادہ کے اندر ایٹمی انفجار (Atomic explosion) اس کو بہت زیادہ طاقت در بنا دیتا ہے۔ اسی طرح انسانی شخصیت کے اندر بھی بے پناہ امکانات چھپے ہوئے ہیں۔ یہ امکانات اس وقت بر بروئے کار آتے ہیں جب کہ انسانی شخصیت کسی انفجار سے دوچار ہو جائے۔ اس پر کوئی ایسا حادثہ گذرے جو اس کی شخصیت کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔ جو اس کے تاروں کو چھیڑ کر اس کے سازحیات کو بجا دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues