Al-Risala · March 1984 · page 15

انتقام نہیں

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۱۵

انتقام نہیں

ایک صاحب ٹرانسپورٹ کا کام کرتے ہیں۔ ان کے پاس ایک گاڑی تھی جس کا لائسنس رسمی طور پر دوسرے کے نام تھا۔ کچھ دنوں کے بعد اس آدمی کی نیت خراب ہو گئی۔ اس نے چاہا کہ کاغذ میں قانونی اندراج سے فائدہ اٹھا کر گاڑی پر قبضہ کرلے یا اس کے معاوضہ میں ان سے کوئی بڑی رقم حاصل کرے۔ ٹرانسپورٹ کے مالک کے سامنے جب یہ بات آئی تو اس کے بدن میں آگ لگ گئی۔ وہ اپنے اس ”دوست کا جانی دشمن ہو گیا۔

اب اس کا ذہن ہر وقت ایک ہی سوچ میں رہتا۔ وہ یہ کہ اس شخص کو کس طرح مروایا جائے ۔ انتقام کے جذبہ نے اس کے ذہن کو جرائم کا کارخانہ بنا دیا۔ اب اس کو نہ اپنے کاروبار کی ترقی کی فکر تھی نہ اپنے گھر کو بنانے کی۔ ساری فکر اس بات کی تھی کہ مذکورہ شخص کو کسی نہ کسی طرح ہلاک کر دیا جائے۔ اسی حال میں چھ ماہ گزر گئے۔ بالآخر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے اس کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ وہ اتفاقاً ایک مقام پر گیا ہوا تھا۔ ایک سڑک سے گزرتے ہوئے اس کے کان میں کچھ آوازیں آئیں۔ اس کو محسوس ہوا کہ یہاں کوئی تقریر ہو رہی ہے۔ وہ جلسہ گاہ کی طرف مڑ گیا اور وہاں بیٹھ کر تقریر سننے لگا۔ تقریر کرنے والا کہہ رہا تھا :

انتقام لینے سے پہلے سوچ لو کہ انتقام کا بھی انتقام لیا جائے گا۔

تقریر کی سادگی نے اس کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ وہ انتہائی غور کے ساتھ مقرر کی باتیں سنتا رہا جو بار بار مختلف مثالوں کے ذریعہ اپنے نقطہ نظر کو واضح کر رہا تھا۔ تقریر کے بعد جب وہ جلسہ گاہ سے اٹھا تو وہ دوسرا انسان بن چکا تھا۔ اس نے طے کیا کہ وہ انتقام کے ذہن کو ختم کر دے گا اور مذکورہ شخص کے معاملہ کو خدا کے حوالہ کر کے اپنے کاروبار کی ترقی میں لگ جائے گا۔

ٹرانسپورٹ کے مالک کو اب تک کام کرنے کا صرف "تخریبی ڈھانچہ" معلوم تھا، اب انھوں نے کام کرنے کا "تعمیری ڈھانچہ" دریافت کر لیا۔ ان کومعلوم ہوا کہ کام کرنے کا وہی ایک انداز نہیں ہے جس پر دوسرے اکثر لوگ چل رہے ہیں۔ کام کرنے کا ایک اور انداز بھی ہے۔ اور وہ ہے ۔ دوسرے کے پیچھے دوڑنے کے بجائے اپنے پیچھے دوڑنا۔

مذکورہ شخص نے اب اسی دوسرے طریقے کو پکڑ لیا۔ انھوں نے ۶ ستمبر ۱۹۸۳ء کی ایک ملاقات میں کہا کہ " اب وہ اپنے کو زیادہ پرسکون بھی پاتے ہیں اور زیادہ کامیاب بھی "

‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues

Printed page