بدعنوانی
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۱۶
بدعنوانی
بمبئی میں ایک کئی منزلہ عمارت بنائی گئی۔ اس کا نام ”آکاش دیپ“ رکھا گیا۔ مگر جب وہ بن کر تیار ہوئی تو اچانک گرپڑی۔ بتایا جاتا ہے کہ گرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کی تعمیر میں سیمنٹ کا جز مقرره مقدار سے کم استعمال کیا گیا تھا۔
ایک ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر نے اس سلسلے میں اپنا بیان دیتے ہوئے کہا : RCC construction is a scientific process which is excellent in the hands of qualified and experienced people, but dangerous if managed by incompetent engineers and contractors. آرسی سی تعمیر ایک سائنسی طریقہ ہے جو بہت عمدہ ہے جب کہ وہ لائق اور تجربہ کار لوگوں کے ہاتھ میں ہو مگر وہ اس وقت خطرناک ہو جاتا ہے جب اس کو استعمال کرنے والے نا اہل انجینئر اور ٹھیکیدار ہوں ۔ (ٹائمس آف انڈیا ۴ ستمبر ۱۹۸۳)
بظاہر یہ ایک صحیح اور خوب صورت بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے اندر ایک مغالطہ چھپا ہوا ہے۔ یہ مغالطہ اس وقت کھل جاتا ہے جب کہ ہم نااہل (Incompetent) کی جگہ بد عنوان (Corrupt) کا لفظ رکھ دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اس قسم کے مسائل لوگوں کی حرص اور بدعنوانی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں نہ کہ فنی عدم مہارت کی وجہ سے۔
بھاکرا ڈیم ہندوستان کا اعلیٰ ترین سرکاری منصوبہ تھا۔ اس کی تعمیر میں ملک کے بہترین انجینئر لگائے گئے۔ مگر جب وہ بن کر تیار ہوا تو اس کی دیوار میں شگاف ہو گیا جس کی تعمیر میں درد بارہ کروڑوں روپیہ لگانا پڑا۔ اس قسم کے واقعات ہر روز ہمارے ملک میں ہو رہے ہیں۔ یہ سب کام ہمیشہ فنی ماہرین کی نگرانی میں انجام پاتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ حال ہے کہ سڑکیں بننے کے بعد جلد ہی خراب ہو جاتی ہیں۔ عمارتیں تیار ہونے کے ساتھ ہی قابل مرمت ہو جاتی ہیں۔ منصوبے تکمیل کو پہنچ کر غیر مکمل نظر آنے لگتے ہیں۔ اس قسم کے تمام واقعات کی وجہ بدعنوانی ہے نہ کہ فنی مہارت کی کمی۔
بدعنوانی ایک نفسیاتی خرابی ہے اور فنی مہارت میں کمی ایک ٹیکنکل خرابی۔ نفسیاتی خرابی لو ٹیکنکل اصلاح کے ذریعہ دور نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں واقعۃً ایک بہتر سماج بنے تو افراد قوم کی نفسیاتی اصلاح کرنی ہو گا۔ صرف ٹیکنکل کورس میں اضافہ سے یہ مقصد کبھی حاصل نہیں ہو سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues