مستقل ارادہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۱۷
مستقل ارادہ
کسی مفکر کا قول ہے : ” لوگوں میں طاقت کی اتنی کمی نہیں جتنی مستقل ارادے کی ، یہ ایک واقعہہ ہے کہ اکثر لوگوں کے اندر صلاحیت پوری طرح موجود ہوتی ہے ۔ مگر اس کا فائدہ وہ صرف اس لئے نہیں اٹھا پاتے کہ وہ استقلال کے ساتھ دیر تک جدوجہد نہیں کر سکتے ۔ اور کسی واقعی کامیابی کے لئے لمبی جدوجہد فیصلہ کن طور پر ضروری ہے ۔ اگر آپ اپنی کوششوں کا کوئی ٹھوس اور مفید نتیجہ دیکھنا چاہتے ہیں تو پہلے دن یہ سوچ لیجئے کہ آپ کو لمبی مدت تک انتظار کرنا پڑے گا ۔ اگر آپ کے اندر انتظار کی طاقت نہیں ہے تو آپ کو اپنے لئے کسی پائیدار کامیابی کی امید بھی نہیں رکھنا چاہئے۔ زندگی کا راز ایک لفظ میں یہ ہے ــــــ جتنا زیادہ انتظار اتنی ہی زیادہ ترقی۔
قومی زندگی کی ” تعمیر “ تھوڑے سے وقت میں بھی ہو سکتی ہے اور اس کے لئے زیادہ مدت بھی درکار ہوتی ہے ۔ اس کا انحصار اس پر ہے کہ آپ کس قسم کی قومیت تعمیر کرنا چاہتے ہیں ۔ اگر قوم کے اندر فوری جوش پیدا کرنا مقصود ہے۔ اگر محض منفی نوعیت کے کسی وقتی ابال کو آپ مقصد سمجھنے کی غلطی میں مبتلا ہیں۔ اگر عوامی نفسیات کو اپیل کرنے والے نعرے لگا کر تھوڑی دیر کے لئے ایک بھیڑ جمع کر لینے کو آپ کام سمجھتے ہیں۔ اگر جلسوں کی دھوم کا نام آپ کے نزدیک قوم کی تعمیر ہے تو اس قسم کی قومی تعمیر ، اگر اتفاق سے اس کے حالات فراہم ہو گئے ہوں ، آناً فاناً ہو سکتی ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ قوم کی تعمیر سے زیادہ قیادت کی تعمیر ہے ، کیونکہ اس طرح کے شور و شر سے وقتی طور پر کچھ قائدین کو تو ضرور فائدہ ہو جاتا ہے ۔ مگر انسانیت کے اس مجموعی تسلسل کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا جس کو قوم یا ملت کہتے ہیں ۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو اس قسم کے طریقے گویا ایک قسم کا استحصال ہیں ، جن سے فائدہ اٹھا کر وقتی طور پر کچھ لوگ اپنی قیادت جما لیتے ہیں ۔ یہ سستی لیڈری حاصل کرنے کا ایک کامیاب نسخہ ہے ، جس کو سطحی قسم کے لوگ نادانی کی بنا پر یا ذاتی حوصلوں کی تکمیل کے لئے اختیار کرتے ہیں۔
اگر ہم واقعی ملت کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو ہم کو سمجھ لینا چاہئے کہ ہم شاہ بلوط کا درخت اگانے اٹھتے ہیں نہ کہ ککڑی کی بیل جمانے۔ ۔ یہ ایک ایسا کام ہے جو لازمی طور پر لمبا منصوبہ چاہتا ہے ۔ تھوڑی مدت میں اس کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کوئی لیڈر ایسے نعرے لگاتا ہے تو وہ یا تو اس کی سادہ لوحی کی دلیل ہے یا اس کی استحصالی ذہنیت کی ۔ اور اگر کوئی قوم ایسی ہے جو لمبے انتظار کے بغیر اپنی تعمیر وترقی کا قلعہ بنانا یا دیکھنا چاہتی ہے تو اس کو جان لینا چاہئے کہ ایسے قلعے صرف ذہنوں میں بنتے ہیں ، عالم واقع میں نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues