Al-Risala · March 1984 · page 26

عظیم خاموشی

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۲۶

عظیم خاموشی

ویگا (Vega) ایک ستارہ ہے جو زمین سے ۲۶ سال نور کے فاصلہ پر واقع ہے۔ حال ہی میں دریافت ہوا ہے کہ اس کے گرد سیارے بن رہے ہیں۔ یہ دریافت سائنس دانوں کے لئے بے حد دل چسپی کی چیز ہے کیوں کہ اس سے ان کے اس نظریہ کی بالواسطہ تصدیق ہوتی ہے کہ ”زمین “ سیار آتی نظام کا ایک ارتقائی مرحلہ ہے۔

مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ دوسرا اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ علماء فلکیات کے نزدیک اکثر ستاروں کے گرد سیارے (Planets) ہیں۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ۰۰۰ ۱۵ ملین سورج (ستارے) کے گرد ایسے سیارے موجود ہیں جن کی عمر ہماری زمین سے دگنا ہے۔ مذکورہ نظریہ کے مطابق ان سیاروں پر اعلیٰ ترقی یافتہ نشینی تہذیب (Super-advanced technological civilisation) پائی جانی چاہئے۔ جب کہ یہ سیارے چٹانوں اور گیس اور گرد کے سوا کچھ نہیں۔ انتہائی طاقت ور دوربینوں سے کائناتی میں بہت دور تک نہایت توجہ سے مشاہدہ کیا گیا ہے۔ مخصوص ریڈیو کے ذریعہ کائنات تہذیبوں کے سگنل سننے کی کوشش بہت بڑے پیمانہ پر کی گئی ہے۔ مگر اب تک زمین کے سوا کسی اور سیارہ پر کسی تہذیب کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ پروفیسرجو گلن ڈیوڈ برن (Glen David Brin) نے اس سلسلہ میں ایک مقالہ شائع کیا ہے جس میں وہ اس صورت حال کو عظیم خاموشی (Great Silence) سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس موضوع پر موجودہ زمانہ میں بے پناہ سرمایہ خرچ کیا گیا ہے۔ نہایت اعلیٰ دماغ اس کی تحقیق میں مسلسل لگے ہوئے ہیں۔ مگر ابھی تک ادنیٰ درجہ میں بھی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ چنانچہ اب سائنس داں اس سوال سے دوچار ہیں کہ کیا ہم اس کہکشاں میں اکیلے ہیں؟ Are we alone in the galaxy. دوسرے سیاروں پر تہذیب نہ ہونے کے بارہ میں مختلف قیاسی توجیہات پیش کی گئی ہیں۔ ایک زیادہ عام توجیہہ یہ ہے کہ تہذیبیں جب جوہری ہتھیاروں کی دریافت تک پہنچتی ہیں تو خود اپنے آپ کو فنا کر لیتی ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ محض مفروضہ ہے۔ کیوں کہ اب تک مختلف کہکشاؤں میں سے کسی کہکشاں میں حال یا ماضی کی کسی جوہری جنگ کا سراغ نہیں ملا (ہندوستان ٹائیمز ۲۰ ستمبر ۱۹۸۳)

‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues

Printed page