عظیم خاموشی
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۲۷
زمین کے علاوہ دوسرے سیاروں پر اعلیٰ تہذیب کی تلاش در اصل کائنات کی توجیہہ کی تلاش ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ مذہبی خدا کے بجائے سائنسی خدا کی تلاش ہے۔ اس قسم کی تلاش ہمیشہ ”عظیم خاموشی“ ہی پر ختم ہوگی، کیوں کہ وہاں خاموشی کے سوا اور کوئی چیز موجود نہیں۔ تہذیب انسانی کا راز یا کائنات کی توجیہہ انسان اور کائنات کے خالق نے پیغمبروں پر الہام کیا ہے۔ اور پیغمبر کے کلام ہی میں ہم اس کا صحیح جواب پا سکتے ہیں۔ اس کے سوا جہاں بھی اس کو تلاش کیا جائے گا وہ صرف وقت اور قوت کو ضائع کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ کائناتی واقعات کی توجیہہ کی تلاش خود یہ ثابت کرتی ہے کہ جو واقعات ہمارے مشاہدہ میں آتے ہیں وہ بذات خود اپنی توجیہہ کے لیے کافی نہیں۔ کائناتی واقعات کی توجیہہ کے لیے ہمیں ان واقعات کے ماورا کوئی چیز در کار ہے۔ کسی ماورا چیز کی دریافت کئے بغیر معلوم واقعات ہمارے لئے بغیر توجیہہ شدہ بنے رہیں گے۔
اس کے ساتھ اس دوسری حقیقت کو ملا لیجئے کہ ہزاروں سال کی فلسفیانہ تلاش کے با وجود آج تک اس توجیہہ کی دریافت نہ ہوسکی۔ اس سے یہ قرینہ حاصل ہوتا ہے کہ فلسفیانہ یا غیر مذہبی نوعیت کی توجیہہ یہاں سرے سے موجود ہی نہیں۔
اب ہمارے لئے دوسرا بدل صرف مذہبی یا پیغمبرانہ توجیہہ کا رہ جاتا ہے۔ پیغمبر پورے یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ اس کائنات کا ایک زندہ خالق ہے جس نے اپنے ذاتی ارادہ اور شعور کے تحت اس کو پیدا کیا ہے اور یہی اپنے ارادے کے تحت اس کو چلا رہا ہے۔
پیغمبروں کے اس بیان کو جب کائنات کے معلوم واقعات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو تمام واقعات خاموش زبان میں اس کی تصدیق کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک زندہ کائنات کی توجیہہ ایک زندہ حقیقت ہی ہو سکتی ہے۔ اور وہی واقعہ پیغمبروں کے بیان کو صحیح ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کائنات میں ”عظیم خاموشی “ نہیں بلکہ عظیم پکار ہے۔ مگر اس عظیم پکار کو وہی سن سکتا ہے جو اپنے سر کے ساتھ کان رکھتا ہو۔ چاند کو روشن کرنے کے سورج چاہئے۔ اسی طرح سورج کو روشن کرنے کے لئے ایک عظیم تر سورج در کار ہے۔ بارش کو برسانے کے لیے سمندر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح سمندر کا وجود تقاضا کرتا ہے کہ یہاں ایک اور بڑا سمندر ہو۔ یہ واقعات جس کو دلیل نظر نہ آئیں اس کو اپنی عقل پر شبہ کرنا چاہئے نہ کہ خدا پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues