Al-Risala · March 1984 · page 48

مارکسی اشتراکیت

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۴۸

مارکسی اشتراکیت

انسان اپنے آپ کو ایک وسیع اور عظیم کائنات میں پاتا ہے جس کا وہ بے حد حقیر حصہ ہے۔ وہ اپنے آپ کو اس کائنات سے الگ نہیں کر سکتا۔ اس لئے وہ اپنے بارہ میں اس سے الگ ہو کر سوچ بھی نہیں سکتا۔ قدرتی طور پر انسان یہ کوشش کرتا ہے کہ اپنے اور کائنات کے درمیان تعلق کو دریافت کرے۔ وہ کائنات سے اپنا صحیح رشتہ قائم کرے ۔ تا ہم انسان اکثر اس رشتہ کو دریافت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انسان کی تمام گمراہیاں در اصل اسی عدم دریافت کا دوسرا نام ہیں۔

شرک کیا ہے۔ شرک یہ ہے کہ کا ئناتی مظاہر کو خدا کا مختلف روپ فرض کر لیا جائے اور یہ یقین کر لیا جائے کہ انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ ان کو پوجتا رہے۔ انسان اور کائنات دونوں خدا کی مخلوق ہیں مگر شرک یہ کرتا ہے کہ انسان کو عابد کے مقام پر رکھ دیتا ہے اور کائنات کو معبود کے مقام پر۔ مارکس کی غلطی بھی ایک اعتبار سے اسی نوعیت کی ہے۔ مارکس نے یہ فرض کیا کہ انسان اور بقیہ کائنات دونوں ایک ہی مجموعہ کے مختلف اجزاء ہیں۔ جس طرح مٹی اور پانی دونوں ایک ہی قانون طبعی کے تابع ہیں، اسی طرح انسان اور کائنات بھی ایک ہی قانون مادی کے تابع ہیں۔ جو قانون مادی دنیا میں تغیر پیدا کرتا ہے ۔ وہی قانون انسانی سماج میں بھی تغیر پیدا کرتا ہے۔ یہ مارکسی فکر کی بنیادی غلطی تھی جس کی وجہ سے اس کا پورا نظام فکر غلط ہو کر رہ گیا ۔ اس نے انسان کو محض مادی روپ میں دیکھا اور انسان اور کائنات کے درمیان ویسا ہی تعلق قائم کیا جیسا تعلق مٹی کے قوانین اور پانی کے قوانین کے درمیان ہوتا ہے۔ مارکس نے انسان کو کائناتی قوانین کا بے اختیارانہ معمول سمجھ لیا ۔ حالانکہ کائنات انسان کے اختیارانہ عمل کا ماڈل ہے نہ کہ انسان کی بے اختیاری کی توسیع۔ کارل مارکس کی زندگی کے دو دور ہیں۔ پہلے دور کے مارکس کو انسانیت دوست مارکس (Humanist Marx) کہہ سکتے ہیں اور دوسرے دور کے مارکس کو اس کے اپنے الفاظ میں سائنٹفک مارکس (Scientific Marx) - مارکس جرمنی میں اس وقت پیدا ہوا جب کہ وہاں صنعتی انقلاب آ چکا تھا۔ اس نے دیکھا کہ ایک انسان دوسرے انسان کو لوٹتا ہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کو اپنی حرص اور جارحیت کا نشانہ بناتا ہے۔ یہ صورت حال دیکھ کر وہ تڑپ اٹھا۔ وہ ان لوگوں کا حامی بن گیا جو اس زمانہ کے جرمنی اور فرانس اور برطانیہ میں سوشلزم کے اصول پر بہتر سماج کی تعمیر کی باتیں کرتے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues

Printed page