Al-Risala · March 1984 · page 34

مارکسی اشتراکیت

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۳۴

بچے دیے ہیں۔ اور وہ سب کے سب یونسٹ ہیں۔ ٹیچر لڑکی کی بات سے بہت متاثر ہوئی۔ اس نے انسپکٹر کو دعوت دی کہ وہ آئے اور خود دیکھے کہ اس کے طلبہ کس قدر تربیت یافتہ ہیں۔ ایک ہفتہ کے بعد انسپکٹر آیا۔ ٹیچر نے لڑکی کو بلایا اور کہا کہ ان صاحب سے اپنی بلی کے بارہ میں بتاؤ۔ لڑکی نے کہا کہ ہماری بلی نے چھ بچے دئے تھے اور وہ سب کے سب جمہوریت پسند ہیں۔ ٹیچر کو یہ سن کر تعجب ہوا۔ اس نے صورت حال کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے ہفتہ تم نے بتایا تھا کہ وہ سب کے سب کمیونسٹ ہیں۔ اب تم یہ کیوں کہہ رہی ہو کہ وہ سب کے سب جمہوریت پسند ہیں ۔ لڑکی نے جواب دیا کہ اتنے دنوں میں ان بچوں کی کم آنکھیں کھل گئی (ہندوستان ٹائمنس ۱۴ جنوری ۱۹۸۴) یہ صورت جو مارکس کے ساتھ پیش آئی۔ یہی موجودہ زمانہ میں بعض مسلم مفکرین کے معاملہ میں بھی پیش آئی ہے۔ ان مسلم مفکرین نے اپنی انتہا پسندانہ خوش خیالی کے تحت اسلام کی ایک تعبیر پیش کی۔ یہ تعبیر وقتی طور پر بہت سے لوگوں کو پسند آئی۔ وہ اس کی طرف دوڑ پڑے۔ پچھلے چالیس پچاس سال کے نتیجہ میں اب ان مفکرین کے نام پر ایک حلقہ بن گیا اور اس کا ایک ڈھانچہ (Establishment) قائم ہو گیا۔ اس کی وجہ سے اب اس فکری حلقہ سے وابستگی میں قیادت اور اقتصادی مفاد کی کشش پیدا ہو گئی۔

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان مفکرین کے وابستگان اپنے قائد کے نظریہ کو مانے بغیر اس کے حلقہ سے وابستہ ہیں۔ وہ " مارکسی " نہ ہوتے ہوئے بھی " کمیونسٹ " بنے ہوئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues

Printed page