جو کھوئے وہی پاتا ہے
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۳۵
جو کھوئے وہی پاتا ہے
خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق نے حضرت خالد کو ایک جہاد پر روانہ کیا۔ اس وقت آپ نے ان کو جو نصیحتیں کیں ان میں سے ایک نصیحت یہ تھی کہ موت کے حریص بنو، نام کو زندگی دی جائے گی (احرص علی الموت توهب لك الحياة)
صرف معلومات سے کوئی شخص عالم نہیں بنتا
حضرت مالک بن انس کا قول ہے کہ علم ایک روشنی ہے جو صرف ایسے دل سے مانوس ہوتا ہے جو ڈرنے والا اور فروتنی کرنے والا ہو (العلم نور لا يأنس الا بقلب تقى خاشع) خوش دستی زیادہ سخت آزمائش ہے ابو یعلی اور بزار نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لَانالِفتنة السراء اخوف عليكم من میں تمہارے بارے میں خوش حالی کے فتنہ سے زیادہ فتنة الضراء انكم ابتليتم بفتنة ڈرتا ہوں بہ نسبت تنگ حالی کے۔ تنگ حالی کے الضراء فصبرتم وان الدنيا حلوة خضرة فتنہ میں مبتلا کیے گئے اور تم نے صبر کیا۔ مگر دنیا بڑی شیریں اور سرسبز ہے۔
طبرانی نے عوف بن مالک کے واسطہ سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :
تصب عليكم الدنيا صباً حتى لا يز يغم دنیا تمہارے اوپر بہہ پڑے گی یہاں تک کہ میرے بعد تمھارے اندر کجی آئی تو دنیا کے سوا کسی اور سبب سے نہیں آئے گی۔
گھمنڈ خدا کے یہاں قابل معافی نہیں
عن سفيان الثوري: كل معصية عن شهوة حضرت سفیان ثوری نے کہا کہ ہر گناہ جو خواہش فانه يُرجى غفرانها وكل معصية عن الكبر سے ہوتا ہے اس کی معافی کی امید ہے اور ہر گناہ فانه لا يرجى غفرانها لان معصية ابليس جو بڑائی سے ہوتا ہے اس کی معافی کی امید نہیں كان اصلها من الكبر وزلة آدم كان کیوں کہ ابلیس کا گناہ بڑائی کے سبب سے تھا اور آدم کی لغزش خواہش کے سبب سے۔
اصلها من الشهوة
آدم کو توبہ کے بعد معافی مل گئی۔ ابلیس ہمیشہ کے لیے رحمت سے دور کر دیا گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues