Al-Risala · March 1984 · page 47

الزام تراشی کی کوئی حد نہیں

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۴۷

الزام تراشی کی کوئی حد نہیں

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ حنین میں جو اموال غنیمت حاصل ہوئے تھے جب ان کی تقسیم ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اشراف عرب کو باقی لوگوں پر ترجیح دی اور ان کو نسبتاً زیادہ دیا۔ ایک مسلمان نے یہ دیکھ کر کہا کہ خدا کی قسم، یہ ایک ایسی تقسیم ہے جس میں نہ عدل کیا گیا ہے اور نہ اس میں اللہ کی رضا چاہی گئی ہے (و الله هذه قسمة ما عدل فيها، وما أريد فيها وجه الله )

نصیحت کرنے کا پیغمبرانہ طریقہ یہ ہے

حضرت خزیم ایک صحابی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار ان کے بارہ میں فرمایا: خزیم اسدی کیا ہی اچھے آدمی ہیں۔ کاش ان کے بالوں کی لٹ لمبی نہ ہوتی اور ان کی تہم نیچے نہ لٹکتی (نعم الرجل خزيم الاسدى لولا طول جمته واسبال ازاره، سنن ابی داؤد) حضرت خزیم کو جب معلوم ہوا کہ رسول اللہ نے ایسا کہا ہے تو انھوں نے ایک چھری لی اور اپنے بال کی لٹوں کو کاٹ دیا۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی حضرت عبد اللہ کے بارے میں ایک بار فرمایا کہ عبد اللہ کیسے اچھے آدمی ہیں۔ کاش وہ رات کو نماز پڑھتے (نعم الرجل عبد الله لو كان يصلي بالليل، بخاری) حضرت عبد اللہ کو جب معلوم ہوا کہ رسول اللہ نے ایسا کہا ہے تو انھوں نے فوراً اس پر عمل شروع کر دیا حتیٰ کہ وہ راتوں کو بہت کم سوتے تھے۔

جس کی شرارت کا اثر اس کے بعد بھی باقی رہے

ایک حکیم کا قول ہے کہ برکت اس کے لئے ہے کہ جب وہ مراتو اس کے ساتھ اس کے گناہ بھی مر گئے۔ اور ہلاکت اس کے لئے ہے کہ جب وہ مرے تو اس کے بعد اس کے گناہ باقی رہیں (طوبیٰ لمن اذا ماتت مات معه ذنوبه وويل لمن يموت وذنوبه باقية بعده)

بول چال بند کرنا جائز نہیں عن عطاء بن يزيد الليثي ثم الجندعي ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لا يحل رسول اللہ نے فرمایا: کسی شخص کے لئے جائز نہیں لاحد ان يهجر اخاه فوق ثلاث ليال۔ کہ وہ اپنے بھائی کو تین رات سے زیادہ چھوڑے رکھے يلتقيان فيعرض هذا ويصد هذا ۔ وخيرهما دونوں ایک دوسرے سے ملیں مگر وہ اس سے اعراض کرے الذي يبدأ بالسلام (اخرجه البخاري) اور یہ اس سے اعراض کرے ۔ اور ان دونوں میں

‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues

Printed page