جب ہر چیز آخرت کی یاد کا ذریعہ بن جائے
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۳۷
سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے ۔
جب ہر چیز آخرت کی یاد کا ذریعہ بن جائے
ابن کثیر نے سورہ توبہ کی تفسیر کے آخر میں ایک حدیث نقل کی ہے جو حسب ذیل ہے: قال الطبرانی حدثنا محمد بن عبدالله الحضرمی طبرانی نے روایت کی ہے کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ حدثنا محمد بن عبدالله بن یزید المقری نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑا حدثنا سفيان بن عيينه عن قطن عن ابی اور حال یہ تھا کہ اگر کوئی چڑیا اپنے دونوں پر وں الطفيل عن ابی ذر قال: کو فضا میں ہلاتی تو اس سے بھی آپ ہم کو کسی علم کی یاد تركنا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم دہانی کرتے تھے۔
وما طائر يقلب جناحيه في الهواء الا وهو يذكر لنا منه علماً . اصلاح صرف قرن اول کی تقلید سے امام مالک نے فرمایا کہ امت مسلمہ کا آخر بھی صرف اسی سے درست ہو گا جس سے اس کا اول درست ہوا تھا۔ ( لن يصلح آخر هذه الامة الابماصلح به اولها )
عمل کی قیمت ملتی ہے نہ کہ محض آرزوؤں کی
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک بار فرمایا۔ اے اللہ کے بند و ، میں تم کو اور اپنے کو تقویٰ اور اطاعت کی نصیحت کرتا ہوں۔ اور عمل اپنے آگے بھیجنے کی اور بے بنیاد آرزوؤں کو چھوڑنے کی۔ کیوں کہ جو شخص عمل میں کم رہ جائے اس کو آرزوئیں کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتیں (اوصیکم عباد الله ونفسی بتقوی الله ولزوم طاعته - وتقديم العمل وترك الامل فانه من فرط في عمله لم ينتفع بشئ من امله)
دشمن سے بھی نفرت نہ کیجئے
احد کی جنگ میں دشمنوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر پھینکے۔ پتھر آپ کو لگے۔ آپ کے دانت ٹوٹ گئے اور آپ کے چہرہ سے خون بہنے لگا۔ اس جنگ میں آپ کے چچا حضرت حمزہ مارے گئے اور بہت سے صحابہ قتل ہوئے۔ چنانچہ آپ کے کچھ اصحاب نے آپ سے کہا کہ ان دشمنوں کے خلاف بد دعا کیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ میں لعنت کرنے کے لئے نہیں بھیجا گیا ہوں بلکہ داعی اور رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں (انی لم ابعث لعانا ولكن بعثت د اعيا ورحمة )
‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues