Al-Risala · April 1984 · page 35

یہ سونے والے

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۴، صفحہ ۳۵

یہ سونے والے

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے نہیں دیکھا کہ جہنم جیسی چیز سے بھاگنے والا سو گیا ہو اور میں نے نہیں دیکھا کہ جنت جیسی چیز کو چاہنے والا سو گیا ہو (ما رأیت مثل النار نام هاربہ وما رأیت مثل الجنة نام طالبها)

جہنم کا عذاب کتنا ہولناک ہے۔ مگر آدمی اس سے غافل ہے۔ جنت کی نعمتیں کتنی لذیذ ہیں مگر آدمی کو اس کا کوئی شوق نہیں۔ یقیناً یہ زمین پر ہونے والے تمام واقعات میں سب سے زیادہ عجیب ہے۔ لوگ سورہے ہیں تاکہ اس وقت جاگیں جب کہ جہنمی آگ کے شعلے ان کے لئے سونے کو ناممکن بنا دیں۔ لوگ غافل ہیں تاکہ اس وقت ہوشیار ہوں جب کہ محرومی اور رسوائی ان کے اوپر اس طرح ٹوٹ پڑے کہ ان کے لئے اس سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہ ہو۔

آج ہر آدمی بے ہوش نظر آتا ہے۔ ہر آدمی اپنے آپ میں اس طرح گم ہے جیسے اس کے اوپر کوئی اور طاقت نہیں۔ حالاں کہ موت ہر روز بتا رہی ہے کہ آدمی ایک ایسی حقیقت سے دوچار ہے جس کے مقابلہ میں کسی کا کچھ بس نہیں چلتا۔ انسان کتنا زیادہ مجبور ہے مگر وہ اپنے آپ کو کتنا زیادہ با اختیار سمجھتا ہے۔ آدمی وعدہ کرتا ہے مگر اس کے بعد اس کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اس کے اوپر کسی کا ایک حق آتا ہے مگر وہ اس کو ادا نہیں کرتا۔ آدمی کے سامنے ایک سچائی آتی ہے مگر وہ اس کا اعتراف نہیں کرتا۔ وہ دوسرے کے اوپر ایک طرفہ الزام لگاتا ہے اور اپنی غلطی ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ وہ چھوٹوں کو نظر انداز کر کے بڑوں کا استقبال کرتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کو اصول کے تابع کرنے کے بجائے خواہشات کے تابع کرتا ہے۔ وہ زور آور سے دبتا ہے اور بے زور کو ستاتا ہے۔ وہ خدا کو مرکز توجہ بنانے کے بجائے خود اپنی ذات کو اپنا مرکز توجہ بناتا ہے۔ وہ جنت کے اشتیاق اور جہنم کے اندیشوں میں جینے کے بجائے دنیا کے اشتیاق اور دنیا کے اندیشوں میں جیتا ہے۔ آدمی یہ سب کچھ کرتا ہے اور بھول جاتا ہے کہ اپنی اس روش سے اپنے آپ کو جہنم کے قریب لے جا رہا ہے اور اپنے آپ کو جنت کے لئے نا اہل ثابت کر رہا ہے۔

آہ وہ انسان جس کو اسی چیز کا شوق نہیں جس کا اسے سب سے زیادہ شوق ہونا چاہئے ۔ آہ وہ انسان جو اسی چیز سے سب سے زیادہ بے خوف ہے جس سے اس کو سب سے زیادہ خوف کرنا چاہئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1984 All issues

Printed page