Al-Risala · April 1984 · page 36

اس دن کیا ہوگا

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۴، صفحہ ۳۶

اس دن کیا ہوگا

خدا ہر چیز کا مالک ہے۔ دنیا میں کسی کو جو کچھ ملتا ہے خدا کے دئے سے ملتا ہے۔ خدا کے سوا کسی کے پاس کوئی چیز ہی نہیں جو وہ کسی کو دے سکے۔ ایسی حالت میں اگر کچھ لوگ ایسا کریں کہ ایک شخص کو جائز طور پر ملی ہوئی چیز کو اس سے چھینے لگیں تو گویا وہ خدا کے دئے کو چھین رہے ہیں، وہ خدا کے منصوبہ کو باطل کرنا چاہتے ہیں۔

دنیا میں ایک شخص کو مکان ملے مگر کچھ لوگ اس کو بے گھر کرنے کی سازشیں کریں۔ اس کی معاش کا جائز انتظام ہو مگر لوگ اس کی معاشیات کو تباہ کرنے پر اتر آئیں ۔ اس کو عزت کی زندگی حاصل ہو مگر لوگ اس کو بے عزت کرنے کی کارروائیاں کریں۔ وہ سکون و عافیت کے ساتھ اپنے ماحول میں رہ رہا ہو مگر لوگ اس کو چھوٹے مقدمات میں الجھا کر اس کے سکون کو غارت کرنے لگیں۔ ایسا ہر واقعہ خدا کے انتظام میں مداخلت ہے۔ یہ بے اختیار مخلوق کا ایسے خالق سے لڑنا ہے جو تنہا اور مکمل طور پر ہر قسم کا اختیار رکھتا ہے۔

ایسے واقعات کا مطلب یہ ہے کہ ــــ خدا نے چاہا مگر بندوں نے نہ چاہا۔ خدا نے اپنے فیصلے کے تحت تقسیم رزق کا ایک انتظام کیا مگر بندے اس تقسیم کو ماننے پر راضی نہ ہوئے۔ خدا کے مقابلہ میں بندوں کی یہ سرکشی موجودہ دنیا میں بظاہر کامیاب نظر آتی ہے۔ مگر یہ کامیابی صرف اس لئے ہے کہ موجودہ دنیا میں لوگوں کو امتحان کی آزادی حاصل ہے، جیسے ہی امتحان کی مدت ختم ہوگی، آدمی اپنے آپ کو اتنا بے زور پائے گا کہ اس کے پاس الفاظ بھی نہ ہوں گے کہ وہ کسی کے خلاف بولے، اس کے پاس دل بھی نہ ہوگا کہ کسی کو ملیامیٹ کرنے کا منصوبہ بنائے۔

موجودہ دنیا میں انسان کو آزادی حاصل ہے۔ یہاں کسی کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ خدا کے چاہے کو باطل کرے، وہ خدا کے تقسیم رزق کو کھنڈت کرنے کی کوشش کرے۔ مگر ایسے لوگوں کا حال اس وقت کیا ہوگا جب امتحان کی موجودہ آزادی ختم ہو چکی ہوگی۔ جب وہی ہوگا جو خدا چاہے اور وہ نہ ہو سکے گا جو خدا نہ چاہے، اس روز خدا کہے گا ــــ میں دیتا ہوں جس کو چاہوں، اب جس کو کرنا ہے میرے چاہے کو باطل کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1984 All issues

Printed page